خبریںیورپ

برلن میں سرکاری ملازمین کو مذہبی نشانیاں پہننے کی اجازت، گرین پارٹی نے پرانا قانون ختم کر دیا

جرمنی کے شہر برلن میں گرین پارٹی نے ۲۰۰۵ کے اس قانون کو ختم کرنے کی منظوری دے دی ہے جس کے تحت سرکاری ملازمین کو ڈیوٹی کے دوران کوئی بھی مذہبی نشانی یا لباس پہننے کی اجازت نہیں تھی۔ اب برلن کی پولیس، خواتین جج اور سرکاری وکیل سب ڈیوٹی پر حجاب اور دوسری مذہبی نشانیاں پہن سکتے ہیں۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے خواتین ملازمین کی مذہبی آزادی اور بنیادی حقوق مضبوط ہوں گے۔
یہ فیصلہ نیوکولن علاقے میں پارٹی کے انتخابی پروگرام پر بحث کے دوران کیا گیا۔ اس سے پہلے دسمبر میں ایک ترمیم کے ذریعے استادوں کو تو یہ چھوٹ دی گئی تھی لیکن پولیس، ججوں اور وکیلوں پر پابندی برقرار رکھی گئی تھی، جس کے بعد مکمل قانون ختم کرنے کی مانگ اٹھی۔
اس فیصلے نے سیاسی بحث چھیڑ دی ہے۔ مخالفین کا کہنا ہے کہ سرکاری اداروں میں غیرجانبداری بہت ضروری ہے اور مذہبی نشانیاں پہننے سے یہ اصول کمزور پڑ سکتا ہے۔ سی ڈی یو پارٹی کے پارلیمانی گروپ کے سربراہ ڈرک سٹیٹنر نے اس فیصلے پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پولیس اور عدالتوں میں مذہبی نشانیاں حکومتی کاموں پر مذہبی اثر کا دروازہ کھول سکتی ہیں۔
دوسری طرف گرین پارٹی کے حامیوں کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ آئینی حقوق یعنی مذہبی آزادی اور صنفی برابری کے عین مطابق ہے۔ ان کے نزدیک یہ قدم رواداری اور کثرتیت کی اقدار کو آگے بڑھاتا ہے اور خواتین کو اپنا عقیدہ چھوڑے بغیر سرکاری فرائض ادا کرنے کا موقع دیتا ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button