ماہِ رمضان المبارک کے موقع پر اسلامی ممالک کے مختلف شہروں میں چراغاں؛ روحانی تقریبات کے ساتھ معاشی خدشات اور انسانی بحرانوں کی سنگینی

ماہِ رمضان المبارک کی آمد کے ساتھ ہی عالمِ اسلام کے متعدد شہروں میں سڑکوں، مساجد اور عوامی مقامات کو چراغاں اور خصوصی سجاوٹ سے آراستہ کر دیا گیا ہے، جس سے ایک منفرد اور روح پرور فضا قائم ہو گئی ہے۔
فانوسوں اور رمضانی روشنیوں نے اس بابرکت مہینہ کو محض روزہ داری تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے سماجی ہم آہنگی، عبادات میں اضافہ اور ضرورت مندوں کی مدد کے جذبے کو فروغ دینے کا موقع بھی بنا دیا ہے۔
شیعہ خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق عراق، سعودی عرب، مصر، قطر، ایران، پاکستان اور انڈونیشیا میں رمضانی تقریبات کو عوامی سطح پر بھرپور پذیرائی حاصل ہو رہی ہے اور رمضان کی راتوں کی روحانیت پہلے سے زیادہ نمایاں دکھائی دے رہی ہے۔
اس کے برعکس سوڈان، یمن اور افغانستان سے آنے والی رپورٹس ظاہر کرتی ہیں کہ معاشی بحران، بدامنی اور غربت نے ماہِ رمضان کی فضا پر گہرا سایہ ڈال رکھا ہے۔

انہی حالات کے دوران میڈیا رپورٹس میں روہنگیا مسلمانوں کی بنگلہ دیش کے پناہ گزین کیمپوں میں ابتر صورتحال کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ یہ کیمپ خوراک، طبی سہولیات اور تعلیمی امکانات کی شدید کمی کا شکار ہیں، جہاں رمضان المبارک شدید انسانی تنگی میں گزارا جا رہا ہے۔
روہنگیا مسلمان، جنہیں میانمار سے بے دخل کیا گیا، اب بھی عدم تحفظ اور غیر یقینی مستقبل کا سامنا کر رہے ہیں۔
اسی طرح چین میں ایغور مسلمانوں کی صورتحال سے متعلق رپورٹس وسیع مذہبی پابندیوں اور سماجی دباؤ کی نشاندہی کرتی ہیں، جس کے باعث ان کے لیے رمضان کی آزادانہ مذہبی رسومات ادا کرنا دشوار ہو گیا ہے اور انسانی حقوق کے حوالے سے تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔
مزید برآں غزہ پٹی اور پاکستان کے بعض شہروں جیسے کراچی میں اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں اضافے اور معاشی مشکلات نے خاندانوں کی تشویش بڑھا دی ہے، تاہم اس کے باوجود رمضان کی روحانی فضا کو برقرار رکھنے کی کوششیں جاری ہیں۔




