
شمال مشرقی شام کے تیل کے وسائل ایک بار پھر شام کی مرکزی حکومت (دمشق) اور عرب قبائل کے درمیان کشیدگی کا مرکز بن گئے ہیں۔
یہ اختلاف قبائل کی جانب سے تیل کے انتظام اور آمدنی میں حصے کے مطالبہ سے شروع ہوا تھا، جو اب احتجاج، جھڑپوں اور کنوؤں کو نقصان پہنچانے کی دھمکیوں تک جا پہنچا ہے۔
ہمارے نمائندہ کی اس حوالے سے رپورٹ ملاحظہ فرمائیں۔
حالیہ ہفتوں میں شمال مشرقی شام کے تیل کے وسائل پر تنازع ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، جس نے مرکزی حکومت اور مقامی قبائل کے تعلقات کو شدید چیلنج سے دوچار کر دیا ہے۔
یہ اختلاف ان علاقوں میں سامنے آیا ہے جہاں کچھ عرصہ پہلے تک عرب قبائل سرکاری افواج کے ساتھ مل کر مخالف قوتوں کے اثر و رسوخ کے خلاف سرگرم تھے، تاہم اب تیل کا مسئلہ بنیادی اختلاف کا سبب بن چکا ہے۔
رپورٹس کے مطابق مڈل ایسٹ نیوز نے لکھا کہ شامی حکومت اس مؤقف پر قائم ہے کہ تیل اور گیس قومی دولت ہیں اور آئین کے مطابق ان کا انتظام مرکزی حکومت کے پاس ہونا چاہیے۔
دمشق کا کہنا ہے کہ آزاد کرائے گئے علاقوں میں تعمیر نو اور بنیادی ڈھانچے کی بحالی کے منصوبے جاری ہیں اور تیل کی آمدنی بھی اسی مقصد کے لئے خرچ ہونی چاہیے۔
دوسری جانب روسیا الیوم کے مطابق صوبہ دیر الزور میں قبائلی ذرائع کا کہنا ہے کہ حالیہ برسوں کی زمینی صورتحال میں عرب قبائل نے اہم کردار ادا کیا ہے اور وہ تیل کی آمدنی میں حصہ لئے بغیر خود کو اس عمل سے الگ کئے جانے کو قبول نہیں کریں گے۔
قبائل تیل کے کنوؤں کے انتظام میں شراکت اور اس طریقۂ کار کی بحالی کا مطالبہ کر رہے ہیں جو شامی ڈیموکریٹک فورسز کے دورِ تسلط میں رائج تھا، جس کے تحت تیل کی آمدنی کا ایک حصہ قبائل میں تقسیم کیا جاتا تھا۔
انہی ذرائع کے مطابق شامی حکومت نے اس مطالبہ کو مسترد کرتے ہوئے تیل کے کنوؤں کا مکمل کنٹرول اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے۔
اس پالیسی کے خلاف قبائلی سطح پر وسیع احتجاج سامنے آیا ہے اور قبائل نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنے مطالبات کے لئے احتجاجی اجتماعات اور دمشق میں مرکزی اداروں سے رجوع کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔
میڈیا رپورٹس میں صوبہ دیرالزور کے مختلف علاقوں میں جھڑپوں کی اطلاعات بھی دی گئی ہیں۔
بعض دیہات میں تیل کے کنوؤں کو آگ لگانے اور سرکاری افواج و قبائلی مظاہرین کے درمیان تصادم کی خبریں سامنے آئی ہیں۔
تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ کشیدگی جاری رہی تو مشرقی شام کا سکیورٹی استحکام متاثر ہو سکتا ہے اور تیل کے وسائل کا انتظام ایک نئے بحران سے دوچار ہو سکتا ہے۔




