افغانستان

افغانستان میں لڑکیوں کو تعلیم دینے کے جرم میں تین بار گرفتاری

افغانستان میں سخت گیر تعلیمی پالیسیوں نے لڑکیوں کی تعلیم کو ایک خطرناک سرگرمی بنا دیا ہے اور اساتذہ کو گرفتاری، دھمکیوں اور کلاسوں کی بندش کے درمیان لا کھڑا کیا ہے۔

ایسی صورتحال میں خفیہ تعلیم ہی واحد باقی رہ جانے والا راستہ بن چکی ہے۔

ہمارے ساتھی رپورٹر نے اس حوالے سے ایک رپورٹ تیار کی ہے جسے ہم ساتھ دیکھتے ہیں۔

گزشتہ برسوں کے دوران افغانستان میں لڑکیوں کی تعلیم کو غیر معمولی اور وسیع پابندیوں کا سامنا رہا ہے۔

یہ پابندیاں خاص طور پر 9 سال سے زیادہ عمر کی لڑکیوں پر لاگو ہوتی ہیں، اور کئی صوبوں میں اس عمر کی بچیوں کے لئے ہر قسم کی غیر دینی تعلیم عملاً ممنوع قرار دی جا چکی ہے۔

ان پالیسیوں کے نتیجے میں کلاسیں بند ہو چکی ہیں، اساتذہ کو گرفتار کیا گیا ہے اور تعلیمی مراکز میں خوف کا ماحول پھیل گیا ہے۔

میڈیا اداروں، مثلاً رادیو فردا سے گفتگو میں سامنے آنے والی واقعات کے مطابق، طالبان سے وابستہ فورسز نے متعدد مواقع پر مسلح انداز میں کلاسوں میں داخل ہو کر لڑکیوں کو زبانیں اور غیر دینی علوم پڑھانے کے الزام میں اساتذہ کو گرفتار کیا ہے۔

ان گرفتاریوں میں اکثر مختلف اداروں کو منتقلی، طویل تفتیش اور تعلیم روکنے کے تحریری وعدے لینے جیسے اقدامات شامل رہے ہیں۔

انہی ذرائع کے مطابق اگرچہ بعض واقعات میں جسمانی تشدد کی تصدیق نہیں ہوئی، تاہم نفسیاتی دباؤ، تضحیک اور نسلی و لسانی توہین گرفتاری کے عمل کا حصہ رہی ہے۔

مزید یہ کہ لڑکیوں کی کلاسوں میں مرد استاد کی موجودگی کو ممنوع قرار دیا گیا ہے اور دینی مدارس کو عمومی تعلیم کے لئے استعمال کرنے پر بھی سخت انتباہ دیا گیا ہے۔

خبر رساں ایجنسی فرانس کی رپورٹ کے مطابق ان دباؤ کے باعث بہت سے تعلیمی مراکز نے 9 سال سے زائد عمر کی لڑکیوں کی تعلیم عارضی طور پر معطل کر دی ہے، جبکہ کم عمر بچوں کے لئے محدود کلاسیں جاری ہیں۔

اس کے باوجود گھروں یا چھوٹی کلاسوں میں خفیہ تعلیم، چھاپوں کے خوف کے ساتھ، بدستور جاری ہے۔

تعلیمی کارکنان نے انہی ذرائع ابلاغ سے گفتگو میں خبردار کیا ہے کہ اگر یہ صورتحال جاری رہی تو لڑکیوں کی ایک بڑی تعداد ثانوی تعلیم اور بنیادی مہارتوں سے محروم ہو جائے گی۔

یہ رجحان آئندہ برسوں میں افغانستان کے لیے سنگین سماجی، ثقافتی اور معاشی نتائج کا سبب بن سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button