
سلامتی کونسل کی جانب سے طالبان کے خلاف 1988 کی پابندیوں کی نگرانی کرنے والی ٹیم کے مینڈیٹ میں توسیع کی قرارداد منظور ہونے کے بعد پاکستان نے کابل کو ایک سنجیدہ پیغام ارسال کیا ہے۔
پاکستان نے اپنے پیغام میں زور دیا کہ افغانستان کی سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف دھمکی یا حملے کے لئے اڈہ نہیں بننی چاہیے۔
سلامتی کونسل کا یہ فیصلہ افغانستان کی صورتِ حال پر مسلسل نگرانی کے لئے عالمی برادری کے عزم کو ظاہر کرتا ہے۔
مشرقِ وسطیٰ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل نمائندہ عاصم افتخار احمد نے کہا: “اب طالبان کو افغانستان کے مستقبل کا راستہ منتخب کرنا ہوگا؛ تنہائی کا راستہ یا عوام کے لئے امن اور خوشحالی کا راستہ۔”
انہوں نے مزید کہا کہ قرارداد کی مکمل شقوں پر عمل درآمد اور نگرانی ٹیم کی مؤثر سرگرمیاں طالبان کی بین الاقوامی ذمہ داریوں کی پاسداری کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کریں گی۔
طلوع نیوز کی رپورٹ کے مطابق، پاکستانی نمائندہ نے امید ظاہر کی کہ 1988 پابندیوں کی کمیٹی فعال رپورٹنگ اور مؤثر اقدامات کے ذریعہ افغانستان میں امن و استحکام کی راہ ہموار کرے گی۔




