اسلامی دنیاخبریںشیعہ مرجعیت

ماہِ رمضان کی آمد پر آیۃ الله‌العظمی سید صادق حسینی شیرازی کے مبلغینِ دین سے اہم خطاب

گزشتہ شب شہرِ مقدس قم میں مبلغینِ دین کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے مرجع عالی قدر آیۃ الله‌العظمی سید صادق حسینی شیرازی نے نہایت اہم اور رہنمائی پر مبنی بیانات ارشاد فرمائے۔

آپ نے ورع، تزکیۂ نفس اور اہلِ بیت علیہم السلام کی تعلیمات پر عمل کو خصوصی اہمیت دیتے ہوئے ماہِ مبارک رمضان کو تبلیغ، خودسازی اور معاشرے کی خدمت کا سنہری موقع قرار دیا۔

آپ نے فرمایا کہ ماہِ رمضان میں سب سے افضل عمل ورع (پرہیزگاری) ہے۔ ہر شخص کو چاہیے کہ عزم و ارادہ کے ساتھ کوشش کرے کہ وہ اپنے علاقے میں سب سے زیادہ با ورع انسان بنے اور واجبات و مستحبات سمیت ہر معاملے میں خداوندِ متعال کے احکام کا مطیع رہے۔

سیرتِ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ کے حوالے سے آپ نے فرمایا کہ آنحضرت کی حیاتِ طیبہ اور اخلاقِ کریمانہ کا مطالعہ انسان میں ورع و تقویٰ پیدا کرتا ہے، اگرچہ بہت سے منافقین نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ کی رحمت و اخلاق سے ناجائز فائدہ اٹھایا۔

خود شناسی کے موضوع پر آپ نے فرمایا کہ انسان کو چاہیے اپنے ایمان کا جائزہ لے اور دیکھے کہ آیا وہ واقعی مؤمنین میں سے ہے یا منافقین کے راستے پر چل رہا ہے اور حق سے دور ہو چکا ہے۔

گھریلو زندگی میں ورع کی اہمیت بیان کرتے ہوئے آیۃ اللہ العظمیٰ شیرازی نے فرمایا کہ مؤمن کو وہی غذا کھانی چاہیے جو اس کے اہلِ خانہ پسند کرتے ہوں، اسی ماحول میں زندگی گزارے جو وہ پسند کرتے ہوں، اور اس کے تمام رویّے اور انتخاب دینی و اخلاقی اقدار کے مطابق ہوں۔ اگر دل پاک ہو تو اس کی پاکیزگی انسان کے تمام اعضاء و جوارح پر اثر انداز ہوتی ہے۔

معظم لہ نے مسلم معاشروں کی موجودہ حالت پر تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ آج اکثر مسلم ممالک میں صرف اسلام کا نام باقی رہ گیا ہے جبکہ اس کی عملی تعلیمات کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

والدین کی ذمہ داریوں کے بارے میں آپ نے فرمایا کہ والدین خود احکامِ الٰہی سیکھیں، ان پر عمل کریں اور اپنی اولاد کو بھی سکھائیں تاکہ آئندہ نسلوں میں ورع و تقویٰ کا سلسلہ برقرار رہے۔

آیۃ اللہ العظمیٰ شیرازی نے امامِ معصوم علیہ السلام کے مقام کے بارے میں فرمایا کہ امامِ معصوم زمان و مکان کے مالک ہیں اور ان کے بغیر کسی زمان و مکان کی حقیقی حیثیت باقی نہیں رہتی۔

معظم لہ نے ماہِ مبارک رمضان کے فرائض کے حوالے سے فرمایا کہ یہ مہینہ تبلیغ، تزکیۂ نفس اور معاشرے کی خدمت کا بہترین موقع ہے، اور دینی معارف کی تعلیم و ترویج ہر مکلف پر واجبِ کفائی ہے۔

قرآنِ کریم اور علومِ اہلِ بیت علیہم السلام کے بارے میں فرمایا کہ قرآن کی بعض سورتیں نہایت لطیف اور دلنشین الفاظ سے شروع ہوتی ہیں اور بعض سنجیدہ و سخت انداز سے، اور اہلِ بیت علیہم السلام کے علوم کو سیکھنا اور ان پر عمل کرنا انہی بزرگ ہستیوں کی برکت سے ممکن ہوا۔ لہٰذا ہر شخص پر لازم ہے کہ ان احکام کو بھی سیکھے اور ان پر عمل کرے جو کم رائج ہیں، تاکہ ماہِ رمضان کی حقیقی برکات سے بہرہ مند ہو سکے۔

آیۃ اللہ العظمیٰ شیرازی نے مزید فرمایا کہ ماہِ رمضان تقویٰ، تزکیۂ نفس اور تبلیغِ دین کا خاص موقع ہے۔ خداوندِ متعال دلوں کو دیکھتا ہے؛ جب دل پاک ہوتا ہے تو اس کی پاکیزگی انسان کے تمام اعمال اور روزمرہ زندگی میں ظاہر ہوتی ہے۔

معظم لہ نے تربیتِ اولاد اور شیطانی وسوسوں کے بارے میں فرمایا کہ والدین خود دین پر عمل کر کے اپنی اولاد کے لئے نمونہ بنیں، اور ہر شخص تقویٰ اختیار کر کے اپنے آپ کو شیطان کے وسوسوں سے محفوظ رکھے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button