
نیو ساؤتھ ویلز پولیس فورس نے اعتراف کیا ہے کہ اسرائیلی سیاست دان اسحاق ہرزوگ کے دورۂ سڈنی کے خلاف احتجاج کے دوران ایک سینئر افسر نے مسلمان مظاہرین کو ٹاؤن ہال اسکوائر میں نماز ادا کرنے کی اجازت دی تھی۔ تاہم اس کے باوجود دیگر اہلکاروں نے نمازیوں کو زبردستی ہٹا دیا۔
سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز میں پولیس کو نمازیوں کو گھسیٹتے ہوئے دیکھا گیا، جس پر شدید تنقید سامنے آئی۔
پولیس کمشنر کرین ویب نے مذہبی عمل میں مداخلت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کسی خاص مذہب کو نشانہ بنانا مقصود نہیں تھا۔
لبنانی مسلم ایسوسی ایشن اور دیگر رہنماؤں نے واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے عوامی معذرت اور آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
ادھر این ایس ڈبلیو کے پریمیئر نے پولیس کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ مسلسل احتجاج کمیونٹی کے اتحاد کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔
احتجاج میں ہزاروں افراد شریک تھے اور بعض مقامات پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں۔




