زیتون کا استعمال متعدد امراض کے لیے مفید قرار

زیتون کو قرآنِ کریم میں بابرکت درخت قرار دیا گیا ہے اور احادیثِ نبوی میں بھی اس کے طبی فوائد بیان ہوئے ہیں۔ سورۃ التّین میں اللہ تعالیٰ نے زیتون کی قسم کھائی ہے، جب کہ سورۃ المومنون میں اس درخت کے تیل کو خوراک کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔
ایک حدیث کے مطابق رسولِ اکرم صلیالله علیه و آله نے زیتون کے تیل کے استعمال اور مالش کی ترغیب دیتے ہوئے اسے کئی بیماریوں کے لیے شفا قرار دیا۔ماہرینِ صحت کے مطابق زیتون کا تیل، خصوصاً "ایکسٹرا ورجن” قسم، دل کے امراض، بلند فشارِ خون اور کولیسٹرول کو متوازن رکھنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔
طبی ماہرین اسے نظامِ ہاضمہ، ذیابطیس اور جوڑوں کے درد سمیت مختلف عوارض میں مفید قرار دیتے ہیں۔قدیم اطباء کے مطابق زیتون کا تیل معدے کی بہتری، قبض کے خاتمے اور جلد و بالوں کی صحت کے لیے بھی کارآمد ہے۔
دنیا کے مختلف ممالک میں اس کی کاشت ہوتی ہے، جب کہ پاکستان کے بعض علاقوں میں بھی زیتون کی پیداوار بڑھ رہی ہے۔ ماہرین متوازن مقدار میں اس کے استعمال کو صحت بخش غذا کا حصہ قرار دیتے ہیں۔




