اسلامی دنیاافغانستانخبریں

بامیان میں شیعہ علماء کا انتظامی ڈھانچے اور قومی منصوبوں میں منصفانہ حصہ دینے کا مطالبہ

صوبہ بامیان میں متعدد شیعہ علماء، قبائلی رہنما اور سماجی کارکنان نے سرکاری اداروں کی انتظامیہ اور قومی ترقیاتی منصوبوں میں منصفانہ حصہ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ شیعہ اکثریتی علاقوں کو ترقیاتی پروگراموں کے نفاذ میں ترجیح دی جائے۔

شیعہ علماء نے سرکاری اداروں میں شیعہ ماہر اور تعلیم یافتہ افراد کو شامل کرنے اور شہریوں کے مذہبی حقوق کے احترام کو یقینی بنانے کا بھی مطالبہ کیا، تاکہ متوازن ترقی اور حقیقی سیاسی شرکت کو عملی جامہ پہنایا جا سکے۔

شورائے علمائے بامیان کے سربراہ سید نصراللہ واعظی نے اجلاس میں عدل و انصاف کے نفاذ اور تمام شہریوں کے حقوق کی پاسداری کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے اسے ذمہ دارانہ طرزِ حکمرانی کی بنیاد قرار دیا۔

دوسری جانب بامیان میں طالبان کے گورنر گل حیدر شفق نے اعلان کیا کہ طالبان انتظامیہ عوامی مسائل کے حل اور نسلی، مذہبی اور لسانی تعصبات کی روک تھام کے لئے پُرعزم ہے۔

افغانستان کے ٹیلیگرام چینل "خبرتازه افغانستان” نے مقامی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ ان یقین دہانیوں کے باوجود حقیقی مساوات اور سیاسی شمولیت کے نفاذ، شیعہ ماہرین کی تقرری اور معدنی وسائل کی آمدنی کو ترقیاتی منصوبوں کے لئے مختص کرنے کے حوالے سے خدشات بدستور موجود ہیں۔

اسی تناظر میں اجلاس کے شرکاء نے متعلقہ امور پر واضح اور عملی اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button