تاریخ اسلام

ولادت حضرت رقیہ سلام اللہ علیہا کی یاد؛ ولادت سے شام کے کھنڈرات میں شہادت تک ایک دردناک داستان

امام حسین علیہ السلام کی دختر گرامی حضرت رقیہ سلام اللہ علیہا کی ولادت کی یادگار ہر سال 23 شعبان (58 ہجری) کو عقیدت و احترام کے ساتھ منائی جاتی ہے۔

یہ وہ کم سن بی بی ہیں جن کا نام اہلِ بیت علیہم السلام کی اسارت کی مظلومیت اور شام کے دل خراش واقعات کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔

آج ان کا روضۂ مبارک شہرِ دمشق میں، حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے بارگاہ کے قریب واقع ہے اور اہلِ بیت علیہم السلام کے چاہنے والوں کی زیارت گاہ ہے۔

حضرت رقیہ سلام اللہ علیہا واقعۂ کربلا میں اپنے والدِ گرامی امام حسین علیہ السلام کے ہمراہ موجود تھیں اور امام کی شہادت کے بعد دیگر اسیرانِ اہلِ بیت کے ساتھ شام لے جائی گئیں۔

تاریخی منابع کے مطابق آپ امام حسین علیہ السلام کی صاحبزادی تھیں اور آپ کی والدہ کا نام امّ اسحاق تھا۔

روزِ عاشورا اس 3 سالہ معصوم بچی کا اپنے بابا سے دردناک وداع تاریخ کا ایک ناقابلِ فراموش منظر بن گیا۔

جب اسیران کربلا کو شام منتقل کیا گیا تو حضرت رقیہ سلام اللہ علیہا شام کے کھنڈرات میں راتوں کو اپنے والد کو یاد کر کے پکارتی رہتی تھیں اور فراقِ پدر میں اشک بہاتی تھیں۔

سید بن طاووس کی کتاب اللہوف میں مذکور ہے کہ اس کمسن بچی کی درخواست پر امام حسین علیہ السلام کا سرِ مبارک ان کے سامنے لایا گیا۔ حضرت رقیہ سلام اللہ علیہا نے جب وہ جانسوز منظر دیکھا تو شدید غم و اندوہ کے باعث شہادت پا گئیں۔

آج ان کا مرقدِ مطہر دمشق میں واقع ہے اور اہلِ بیت علیہم السلام کے عاشقان کے لئے زیارت گاہ ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button