
اٹلی حکومت نے اپنی سخت گیر مہاجرتی پالیسیوں کے تسلسل میں ایک بل منظور کیا ہے جس کے تحت حکام کو یہ اختیار دیا جائے گا کہ وہ سرحدوں پر "غیر معمولی دباؤ” کی صورت میں مہاجرین کو لے جانے والی کشتیوں کی آمد روک سکیں اور حتیٰ کہ سمندری محاصرہ بھی نافذ کر سکیں۔
یہ مسودۂ قانون کابینہ کے اجلاس میں منظوری کے بعد حتمی غور و خوض اور تصویب کے لئے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کو بھیج دیا گیا ہے۔
الجزیرہ نیٹ ورک کی ویب سائٹ کے مطابق اس بل کی شقوں کے تحت اگر عوامی نظم یا قومی سلامتی کو سنگین خطرہ لاحق ہونے کا اندازہ ہو تو اٹلی کی علاقائی سمندری حدود میں کشتیوں کے داخلے پر 30 دن تک پابندی عائد کی جا سکے گی۔
ہنگامی حالات میں اس پابندی میں زیادہ سے زیادہ 6 ماہ تک توسیع بھی کی جا سکتی ہے۔
الجزیرہ نے اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین (UNHCR) کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ سال 2025 میں 65 ہزار سے زائد مہاجرین سمندری راستے سے اٹلی پہنچے ہیں۔
اس مجوزہ قانون میں خلاف ورزی کرنے والوں کے لیے بھاری جرمانے اور حتیٰ کہ کشتی کی ضبطی کی سزائیں بھی تجویز کی گئی ہیں۔




