
اسلام آباد میں ہونے والے ایک خونی خودکش حملے کے بعد، پاکستان اور افغانستان کے درمیان سیکیورٹی اور سیاسی حالات ایک نئے موڑ پر پہنچ گئے ہیں۔
یہ مرحلہ ہزاروں افغان پناہ گزینوں کی بے دخلی، پاکستانی حکام کی طالبان کے کردار پر سخت وارننگ، اور کابل کی طرف سے اقتصادی جوابی ردعمل کے ساتھ سامنے آیا ہے
اس بارے میں میرے ساتھی کی رپورٹ ملاحظہ کریں:
اسلام آباد میں حالیہ خودکش حملے میں جس میں درجنوں لوگ مارے گئے اور زخمی ہوئے، اس کے بعد پاکستان کی حکومت نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ تقریباً 20 ہزار افغان شہریوں کو، جو امریکا جانے کے انتظار میں پاکستان میں مقیم ہیں، ملک سے نکال دیا جائے۔اس فیصلے نے انسانی حقوق اور پناہ گزینوں کے اداروں میں سخت تشویش پیدا کر دی ہے۔
پاکستانی اخبار "دی نیشن” کے مطابق، ایک سرکاری ذریعے نے بتایا کہ حکومت نے 19 ہزار 973 افغان شہریوں کو واپس بھیجنے کا حکم دیا ہے اور پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا، بلوچستان اور دارالحکومت اسلام آباد کو فوری کارروائی کی ہدایت دی گئی ہے۔
خبر رساں ایجنسی فرانس پریس (AFP) کے مطابق، ان افراد کی معلومات سیکیورٹی اداروں اور پولیس کو فراہم کی جائیں گی۔فرانس پریس سے وابستہ ذرائع نے بتایا ہے کہ ان پناہ گزینوں کی بڑی تعداد 2021 کے بعد افغانستان سے اس لیے نکلی تھی کیونکہ وہ پچھلی افغان حکومت یا بین الاقوامی اداروں کے ساتھ کام کرتے تھے۔ان میں سے بہت سے لوگ چار سال سے زیادہ عرصے سے امریکا منتقلی کے منتظر ہیں، مگر ان کے کیسز کا عمل رکا ہوا ہے۔
ادھر حالات میں کشیدگی کے ساتھ ساتھ، پاکستان کے ایوانِ صدر کی طرف سے آصف علی زرداری کا یہ بیان سامنے آیا ہے کہ طالبان نے افغانستان کو ایک بار پھر ویسی یا اس سے بھی بدتر حالت کی طرف دھکیل دیا ہے جیسی 11 ستمبر سے پہلے تھی۔اخبار "ایکسپریس ٹریبیون” کے مطابق، زرداری نے کہا کہ افغانستان کی سرزمین سے سرگرم دہشت گرد گروہ پاکستان، علاقائی اور عالمی امن کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔ان بڑھتی ہوئی کشیدگیوں کے جواب میں طالبان حکومت نے بھی جوابی قدم اٹھایا ہے۔فرانس پریس کے مطابق، طالبان کی وزارتِ مالیہ نے اعلان کیا ہے کہ افغانستان کے تمام بارڈرز پر پاکستان سے دواؤں کی درآمد پر پابندی لگا دی گئی ہے اور اسمگلنگ کے خلاف سخت کارروائی کی وارننگ دی گئی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ ثابت کرتا ہے کہ کابل اور اسلام آباد کے درمیان تنازع صرف سیکیورٹی معاملات تک محدود نہیں رہا بلکہ اقتصادی میدان تک پھیل گیا ہے۔




