
صومالیہ کی حکومت کی جانب سے شدت پسند گروہ الشباب کے خلاف جاری سیکیورٹی کارروائیوں کے تسلسل میں اس گروہ کا ایک اعلیٰ کمانڈر وسطی جوبا کے علاقے میں مارا گیا۔
یہ آپریشن ساکوو شہر کے قریب انجام دیا گیا، جو الشباب کی سرگرمیوں کے اہم مراکز میں شمار ہوتا ہے۔
صومالی سیکیورٹی حکام کے مطابق یہ اقدام گروہ کی قیادت کے ڈھانچے پر دباؤ بڑھانے کی حکمتِ عملی کے تحت کیا گیا۔
خبر رساں ادارہ اناتولی کے مطابق صومالیہ کی قومی انٹیلی جنس و سیکیورٹی ایجنسی نے بتایا کہ ہلاک ہونے والے شخص کی شناخت محمد ساحل عیدل کے نام سے ہوئی ہے، جو "ابو اسامہ” کے نام سے معروف تھا اور الشباب کے سربراہ کے قریبی ساتھیوں میں شمار کیا جاتا تھا۔
ادارہ کے بیان کے مطابق وہ صومالی شہریوں سے بھتہ خوری اور املاک پر قبضے کا ذمہ دار تھا اور جنوری میں ایک علیحدہ کارروائی میں مارے جانے والے الشباب کے سابق مالیاتی سربراہ کی جگہ سنبھالنے کی تیاری کر رہا تھا۔
الشباب کی جانب سے جاری بیان، جسے مقامی میڈیا نے بھی نقل کیا، میں ساکوو کے نواح میں ایک فضائی حملے میں ابو اسامہ کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صومالی فوج افریقی یونین کے مشن "آسوم” اور بین الاقوامی شراکت داروں کی حمایت سے الشباب کے خلاف اپنی کارروائیوں میں اضافہ کر رہی ہے۔
اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے بھی اس مشن کی مدت میں دسمبر کے اختتام تک توسیع کر دی ہے۔




