خبریںیورپ

برطانیہ اور یورپ میں اسلاموفوبیا؛ ایک ناقابلِ انکار حقیقت اور سنجیدہ ردِعمل کی ضرورت

برطانیہ اور دیگر یورپی ممالک میں اسلاموفوبیا ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے، جو مسلمانوں کو روزمرہ زندگی، کام کے ماحول اور سماجی تعلقات میں امتیازی سلوک اور معاندانہ رویّوں کا سامنا کرنے پر مجبور کرتی ہے۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق یہ طرزِ عمل صرف انفرادی سطح تک محدود نہیں بلکہ بعض اوقات سرکاری پالیسیوں، ذرائع ابلاغ اور سرکاری اداروں میں بھی اس کی جھلک نظر آتی ہے، جس سے مسلم معاشرہ دباؤ کا شکار ہوتا ہے۔

انسانی حقوق کے ماہرین اور سماجی کارکنان اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اس امتیاز کے خلاف مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں، اور حکومتوں کے ساتھ ساتھ سول سوسائٹی کو بھی مسلمانوں کے حقوق کے تحفظ میں فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔

مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز جرائم میں اضافہ اس امر کا تقاضہ کرتا ہے کہ ان کے تحفظ کے لئے فوری اور منظم حکمتِ عملی اختیار کی جائے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ مسلمانوں اور شہری تنظیموں کو متحد ہو کر اسلاموفوبیا کے خطرات سے متعلق عوامی شعور بیدار کرنا چاہیے۔

اسی طرح بین الاقوامی اداروں کو بھی مسلمانوں کے حقوق کے دفاع کے لیے مؤثر اقدامات کرنا ہوں گے، تاکہ یورپ میں سماجی انصاف اور تحفظ کو فروغ دیا جا سکے اور مسلمان خوف اور امتیاز کے بغیر معاشرے میں زندگی گزار سکیں۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button