رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ جمع پر مأمور تھے، جبکہ امیرالمؤمنین علیہ السلام نشر پر مأمور تھے: آیۃ اللہ العظمیٰ شیرازی

مرجع عالی قدر آیۃ اللہ العظمیٰ سید صادق حسینی شیرازی کا روزانہ علمی جلسہ حسب دستور اتوار 19 شعبان 1447ھ کو منعقد ہوا۔
اس جلسہ میں حسبِ سابق، معظملہ نے حاضرین کے فقہی سوالات کے جوابات ارشاد فرمائے۔
آیۃ اللہ العظمیٰ شیرازی نے سورۂ توبہ کی آیت 73 "یَا أَیُّهَا النَّبِیُّ جَاهِدِ الْکُفَّارَ وَالْمُنَافِقِینَ وَاغْلُظْ عَلَیْهِمْ ۚ وَمَأْوَاهُمْ جَهَنَّمُ ۖ وَبِئْسَ الْمَصِیرُ” ( اے نبی! کافروں اور منافقوں سے جہاد کرو اور ان پر سختی اختیار کرو، اور ان کا ٹھکانا جہنم ہے، اور وہ کیا ہی بُرا انجام ہے) کو بیان کرتے ہوئے لفظ "جمع” اور "نشر” کے معنی کی وضاحت کی۔
معظملہ نے اس آیتِ شریفہ کی روشنی میں جمع اور نشر کے مفہوم کی تشریح کرتے ہوئے فرمایا: جمع کا معنی ہے سب کو اکٹھا کرنا، اور نشر کا معنی ہے تفریق اور جدا جدا کرنا۔
آیۃ اللہ العظمیٰ شیرازی نے مزید فرمایا: رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ نے امیرالمؤمنین علی علیہ السلام سے ارشاد فرمایا: کافروں کے ساتھ جہاد میرے ذمہ ہے، اور منافقین کے ساتھ جہاد آپ کے ذمہ ہے۔
اس نکتہ کی وضاحت کرتے ہوئے آپ نے فرمایا: رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ اس بات پر مأمور تھے کہ جو لوگ ظاہراً اسلام کا اظہار کرتے ہیں، خواہ وہ حقیقی مومن ہوں یا منافق، سب کو ایک مجموعہ میں جمع رکھیں؛ جبکہ امیرالمؤمنین علی علیہ السلام نشر کے مأمور تھے، یعنی منافقین کو پہچان کر ان سے دفاعی جہاد کریں۔
آیۃ اللہ العظمیٰ شیرازی نے فرمایا: جن منافقین نے امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کے خلاف جنگ کی، وہ ظاہراً اپنے آپ کو مسلمان کہتے تھے، لیکن باطن میں کافر تھے۔
آخر میں آپ نے فرمایا: جنگِ جمل، جنگِ نہروان اور جنگِ صفین میں امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کے مقابل وہ لوگ تھے جو خود کو مسلمان سمجھتے تھے، لیکن حقیقت میں مسلمان نہ تھے۔
واضح رہے کہ مرجع عالی قدر آیۃ اللہ العظمیٰ سید صادق حسینی شیرازی دام ظلہ کے یہ روزانہ علمی نشستیں قبل از ظہر منعقد ہوتی ہیں، جنہیں براہ راست امام حسین علیہ السلام سیٹلائٹ چینل کے ذریعے یا فروکوئنسی 12073 پر دیکھا جا سکتا ہے۔




