نجف کے میوزیمِ جہاد میں عراق کی عزت و مزاحمت کی علامت، مرحوم آیۃ اللہ العظمیٰ مرزا محمد تقی شیرازی کی قیادت میں ثورۃ العشرین کی یادگاری تقریب

عراق کی ثورۃ العشرین اس عوامی قیام کی یاد دلاتی ہے جو مرحوم آیۃ اللہ العظمیٰ مرزا محمد تقی شیرازی کے جرأت مندانہ فتاویٰ اور قیادت کے نتیجے میں برپا ہوا، اور جس نے برطانوی استعمار کے خلاف عراقی قوم کی یکجہتی، عزت اور مزاحمت کی علامت کی حیثیت اختیار کی۔
آج نجفِ اشرف کا میوزیمِ جہاد نادر دستاویزات، تصاویر اور قیمتی مخطوطات کی نمائش کے ذریعہ قومی جدوجہد کی اس اہم تاریخ کو محفوظ کر رہا ہے اور اسے آئندہ نسلوں تک منتقل کر رہا ہے۔
اس حوالے سے ہمارے ساتھی رپورٹر کی تیار کردہ رپورٹ ملاحظہ کیجیے
سن 1920ء کا عراقی قیام، جو ثورۃ العشرین کے نام سے معروف ہے، پہلی جنگِ عظیم کے بعد برطانوی قبضہ کے خلاف ایک عوامی ردِعمل تھا، جس کی روحانی قیادت مرحوم آیۃ اللہ العظمیٰ مرزا محمد تقی شیرازی کے ہاتھ میں تھی۔
آپ نے جرأت مندانہ فتاویٰ جاری کر کے عراق کے مختلف قبائل اور طبقات کو اتحاد اور استعمار کے خلاف مزاحمت کی دعوت دی۔
مرزا شیرازی ثانی کی قیادت نے ثورۃ العشرین کو عراق کی معاصر تاریخ کی پہلی ہمہ گیر استعمار مخالف تحریک بنا دیا اور قومی شناخت و عوامی یکجہتی کی بنیادوں کو مضبوط کیا۔
اس جدوجہد کی تاریخ کو ازسرِنو سمجھنے کے لئے نجفِ اشرف کے میوزیمِ جہاد نے ہزاروں تاریخی دستاویزات، نادر مخطوطات، تصاویر اور انقلابات و قومی تحریکوں سے متعلق آثار جمع کر کے ایک بے مثال مرکز قائم کیا ہے۔
یہ میوزیم عراق کی تاریخی تبدیلیوں اور عوامی قیادت میں علمائے دین کے کردار کی مستند داستان پیش کرتا ہے اور محققین، طلبہ اور دلچسپی رکھنے والوں کو عراق کی تاریخِ مزاحمت سے روشناس کراتا ہے۔
سن 1920ء کے قیام، المعروف بہ ثورۃ العشرین، سے متعلق دستاویزات جمع کرنے کا خیال 60 برس سے زائد عرصہ قبل سامنے آیا۔ 70 کی دہائی میں لگنے والی ابتدائی سیار نمائشوں نے اس تحریک سے متعلق تاریخی آثار اور دستاویزات کے حصول کی راہ ہموار کی۔
چیلنجز اور بعض آثار کے ضائع ہو جانے کے باوجود مستقل میوزیم کے قیام کی کوششیں جاری رہیں، اور آج یہ ثقافتی مرکز ایک ہزار سے زائد نادر تصاویر، ہزاروں پرانے اخبارات و رسائل، درجنوں صوتی فائلیں، سینکڑوں مجلات کے ادوار اور 30000 سے زائد کتابوں پر مشتمل لائبریری کے ساتھ عراق کی تاریخی یادداشت کے تحفظ میں نمایاں مقام رکھتا ہے۔
مرحوم آیۃ اللہ العظمیٰ مرزا محمد تقی شیرازی کی رہنمائی اور قیادت نے نہ صرف ثورۃ العشرین میں عوامی اتحاد کو ممکن بنایا، بلکہ یہ بھی ثابت کیا کہ کس طرح دینی قیادت عوامی تحریکوں کو آزادی، عدل اور قومی وقار کے حصول کی سمت میں رہنمائی فراہم کر سکتی ہے۔
سیاسی، ثقافتی اور سماجی اثرات کی حامل یہ تحریک آج بھی عراقی قوم کی مزاحمت اور عزم کی علامت کے طور پر یاد کی جاتی ہے، اور میوزیمِ جہاد اس کے تاریخی شواہد و آثار پیش کر کے اس قیمتی ورثے کو آئندہ نسلوں کے لئے محفوظ بنا رہا ہے۔
آج میوزیمِ جہاد کسی سرکاری ادارے سے وابستگی کے بغیر اور بلا معاوضہ زائرین کا استقبال کرتا ہے، اور تعلیم، تحقیق اور عراق کی قومی جدوجہد کی تاریخ کے تحفظ میں اہم کردار ادا کر رہا ہے، تاکہ اس ملک کی تاریخی اور ثقافتی شناخت ہمیشہ زندہ رہے۔




