
عراق کی اعلیٰ عدالتی کونسل نے اعلان کیا ہے کہ شام سے عراق منتقل کئے گئے داعش کے انتہاپسند سنی دہشت گرد عناصر کا مقدمہ عراق کے داخلی قوانین کے مطابق چلایا جائے گا۔
ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوتا ہے کہ ان میں سے بعض دہشت گرد سرغنہ ہیں اور اجتماعی قتلِ عام اور انسانیت کے خلاف جرائم کے مرتکب رہے ہیں۔
الفرات نیوز کی رپورٹ کے مطابق، سنہ 2014 سے 2017 کے دوران انجام دیے گئے جرائم سے متعلق تفتیش اور معلومات کے جمع کرنے کا عمل شروع ہو چکا ہے، اور یہ تحقیقات 4 سے 6 ماہ تک جاری رہیں گی۔




