
12 فروری کو ہونے والے بنگلہ دیش کے عام انتخابات اور ریفرنڈم کے پیشِ نظر، اس ملک کے الیکشن کمیشن نے روہنگیا مہاجرین کی ووٹنگ کے عمل میں کسی بھی قسم کی شرکت کو روکنے کے لئے سخت سیکیورٹی اقدامات نافذ کر دیے ہیں۔
یہ فیصلہ سیکیورٹی اداروں کی جانب سے دی گئی تنبیہات اور انتخابی فضا سے ممکنہ ناجائز فائدہ اٹھائے جانے کے خدشات کے باعث کیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں روہنگیا کیمپوں میں نقل و حرکت اور سماجی سرگرمیوں پر وسیع پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں۔
میڈیا ادارہ "کالادان پریس” کی رپورٹ کے مطابق، الیکشن کمیشن نے سرکاری اداروں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایات جاری کی ہیں کہ انتخابی مدت کے دوران شناختی جانچ پڑتال کو سخت کیا جائے اور روہنگیا مہاجرین کو کیمپوں سے باہر نکلنے سے روکا جائے۔
بنگلہ دیش کی وزارتِ داخلہ نے بھی اعلان کیا ہے کہ سیکیورٹی فورسز کی تعیناتی 8 فروری سے 14 فروری تک جاری رہے گی۔
سیکیورٹی رپورٹس کے مطابق، روہنگیا کیمپوں میں غیر قانونی اسلحے کی موجودگی اور بعض گروہوں کی جانب سے انتخابی عمل پر اثر انداز ہونے کی کوششوں پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔
اسی طرح الیکشن کمیشن کے اعلان کے مطابق، اس مدت کے دوران روہنگیا مہاجرین کی میڈیا سرگرمیوں، اجتماعات اور کسی بھی قسم کی سیاسی شرکت پر پابندی عائد رہے گی، تاکہ ووٹنگ کے عمل کی سلامتی اور شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔




