
اقوامِ متحدہ کے خصوصی رپورٹر برائے آزادیِ عقیدہ و اظہار، آئرین خان نے جرمنی میں مسلمانوں کے خلاف بڑھتی ہوئی شدت اور نفرت انگیز بیانیے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سلسلہ میں جرمن حکومت کے بعض ردِعمل انسانی حقوق کے عالمی معیار سے ہم آہنگ نہیں ہیں۔
ٹی آر ٹی ورلڈ کے مطابق، برلن میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سیاسی اور سماجی فضا میں اسلاموفوبیا اور مہاجرین کے خلاف نفرت میں اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اس رجحان کو مزید ہوا دے رہے ہیں۔
خبر رساں ادارہ اے ایف پی کے مطابق، آئرین خان نے نشاندہی کی کہ بہت سے سماجی کارکن، طلبہ اور اقلیتی برادریوں کے افراد نفرت انگیز حملوں کے خوف کے باعث آن لائن اور آف لائن دونوں سطحوں پر اپنے خیالات کے اظہار سے گریز کر رہے ہیں۔
انہوں نے دنیا بھر میں مظلوم مسلمانوں کے حقوق کی حمایت میں سرگرمیوں کو محدود کرنے کے لئے انسدادِ دہشت گردی قوانین کے حد سے زیادہ استعمال پر بھی تنقید کی، اور مکالمے اور عوامی شرکت کے لئے محفوظ اور جامع فضاؤں کے فروغ کی ضرورت پر زور دیا۔
آئرین خان نے مزید کہا کہ وہ نفرت انگیز تقاریر یا اقدامات جو امتیاز، دشمنی یا تشدد کو جنم دیں، بین الاقوامی قانون کے تحت ممنوع ہیں اور انہیں ممنوع ہی رہنا چاہیے۔




