خبریںیورپ

یورپ میں مذہبی لباس پر پابندیوں کی نئی لہر؛ اسپین کے سیاحتی جزیروں سے پرتگال میں بھاری جرمانوں کی تجویز تک

اسپین کے جزائرِ بالیار کی مقامی پارلیمنٹ میں ایک متنازعہ منصوبہ کی منظوری نے یورپ میں مذہبی لباس پر پابندیوں کے موضوع کو ایک بار پھر مرکزِ توجہ بنا دیا ہے

خبر رساں ادارو الجزیرہ کے مطابق، اس منصوبہ میں میڈرڈ مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ مایورکا اور ایبیزا جیسے سیاحتی جزیروں کے عوامی مقامات پر نقاب اور برقع پر پابندی عائد کی جائے؛ اس اقدام پر مختلف حلقوں کی جانب سے شدید ردِعمل سامنے آیا ہے۔

ہسپانوی ذرائع ابلاغ کے مطابق، یہ تجویز علاقائی پارلیمنٹ میں قدامت پسند اور انتہائی دائیں بازو کی جماعتوں کی حمایت سے منظور ہوئی ہے، تاہم اس پابندی کو حجاب تک وسعت دینے کی کوشش کو بعض سیاسی حلقوں کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سول سوسائٹی کے اداروں نے اس اقدام کو مذہبی آزادی کو محدود کرنے اور مسلمانوں پر بڑھتے دباؤ کی علامت قرار دیا ہے۔

پرتگال میں بھی، مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق، پارلیمنٹ اسی نوعیت کے ایک منصوبہ پر غور کر رہی ہے جو حتمی منظوری کی صورت میں عوامی مقامات پر مکمل چہرہ ڈھانپنے پر چار ہزار یورو تک کے جرمانے کا سبب بن سکتا ہے۔

ناقدین اس پالیسی کو انفرادی حقوق اور مذہبی آزادیوں کے منافی قرار دیتے ہیں، جبکہ حامی اس کی حمایت میں سکیورٹی اور سماجی تحفظ کے دلائل پیش کر رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button