خبریںہندوستان

ہزاروں کروڑ کی وقف جائیداد غائب؛ حیدری ٹاسک فورس کا احتجاج

لکھنو۔ حیدری ٹاسک فورس نے اترپردیش شیعہ سنٹرل وقف بورڈ میں بدعنوانی، لوٹ اور بھو مافیا کے الزامات لگاتے ہوئے حسین آباد واقع چھوٹے امام باڑے کے سامنے احتجاج کیا۔

احتجاج کے ذریعہ شیعہ وقف بورڈ کو فوری طور پر تحلیل کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ دھرنے میں شامل مقررین نے ہزاروں کروڑ روپے کی وقف املاک کو منصوبہ بند طریقے سے ریکارڈ سے غائب کر کے بھومافیا کے ہاتھوں فروخت کرنے کا الزام لگایا۔

دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے حیدری ٹاسک فورس کے صدر منے آغا نے کہا کہ وقف بورڈ کی ملی بھگت سے شیعہ برادری کی تاریخی اور مذہبی املاک فروخت کر دی گئیں۔ جن میں مسجد شاہدرا، کربلا عباس باغ، موتی مسجد، رانی رسول پور، وقف احمدی بیگم اور وقف اچھے مرزا جیسی لکھنو کی اہم املاک شامل ہیں۔

منے آغا اور نائب صدر ذیشان زیدی نے کہا کہ حیدری ٹاسک فورس نے موقع پر معائنہ کر کے روضہ حضرت قاسم نیو حیدرآباد، کربلا عظیم اللہ خاں جیسی املاک بچائیں اور گزشتہ سال کربلا تال کٹورہ میں ہو رہی غیر قانونی تعمیر بھی رکوائی، حیدری ٹاسک فورس کے جنرل سکریٹری زیدی نے الزام لگایا کہ بورڈ کے چیئرمین بار بار غیر ملکی دورے کر کے وقف املاک کی فروخت سے حاصل شدہ رقم بیرون ملک سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔‌

دھرنے سے ادارے کے دیگر عہدے داران نے بھی خطاب کیا۔ حیدر رضوی نے قبرستانوں میں انتہائی مہنگی قیمت پر فروخت ہو رہی قبروں کی اعلی سطحی جانچ کا مطالبہ کیا۔

دھرنے میں مولانا یعسوب عباس، مولانا انتظام حیدر، مولانا شفیق سمیت حیدری ٹرانسپورٹ کے عہدے داران اور اراکین شامل تھے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button