عالمی تنظیم نفیِ تشدد نے ایپسٹین کیس کے حوالے سے بین الاقوامی حقائق جانچ کمیٹی کے قیام کا مطالبہ کیا

عالمی تنظیم نفیِ تشدد (فری مسلم) نے امریکی عدالتی حکام، انسانی حقوق کے اداروں اور بین الاقوامی مراجع کو ایک کھلا خط ارسال کرتے ہوئے جیفری ایپسٹین کے مقدمہ کی جامع اور بلا امتیاز تحقیقات پر زور دیا ہے۔
اس تنظیم کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ محض ایک محدود اسکینڈل نہیں بلکہ ایک منظم اور سرحدوں سے ماورا نیٹ ورک سے جڑا ہوا ہے، جو سیاسی اور مالی اثر و رسوخ کے ذریعہ انسانی وقار بالخصوص بچوں اور خواتین کی سنگین پامالی کا مرتکب رہا ہے۔
شیعہ خبر رساں ایجنسی کے مطابق، عالمی تنظیم نفیِ تشدد نے افشا شدہ دستاویزات کو ساختی نوعیت کے استحصال کی علامت قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ بعض ناموں کا خفیہ رہ جانا ایک خطرناک پیغام دیتا ہے کہ طاقت انصاف کے نفاذ میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔
"فری مسلم” نے اقوامِ متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق سے مراسلت میں آزاد اور بین الاقوامی حقائق جانچ کمیٹی کے قیام کا مطالبہ کیا ہے، جس میں ممتاز قانون دانوں اور انسانی حقوق کے ماہرین کی شمولیت ہو۔
عالمی تنظیم نفیِ تشدد نے اس امر پر بھی زور دیا کہ سرحد پار عدالتی پیروی، بین الاقوامی اداروں کے باہمی تعاون اور متاثرین و گواہوں کو قانونی، نفسیاتی اور مالی معاونت فراہم کی جائے۔ تنظیم نے متنبہ کیا ہے کہ اس مقدمہ میں عالمی انصاف کی ساکھ ایک سنجیدہ آزمائش سے دوچار ہے۔




