
کینیڈا کی نیشنل کونسل آف مسلمز نے حکومتِ کینیڈا کے اس فیصلہ پر شدید تشویش اور گہری مایوسی کا اظہار کیا ہے جس کے تحت اسلاموفوبیا کے خلاف قائم خصوصی دفتر کو بند کر دیا گیا ہے۔
یہ دفتر سن 2021 میں اونٹاریو میں ہونے والے ایک دہشت گردانہ حملے کے بعد قائم کیا گیا تھا، جس میں ایک مسلمان خاندان کے چار افراد شہید ہو گئے تھے۔ اس دفتر کا مقصد ملک میں اسلاموفوبیا کے خلاف مستقل اور مؤثر اقدامات کو یقینی بنانا تھا۔
کینیڈین خبر رساں ایجنسی سی بی سی کے مطابق، حکومتِ کینیڈا نے نہ صرف اسلاموفوبیا بلکہ یہود دشمنی کے خلاف قائم دفاتر کو بھی بند کرتے ہوئے ان کی جگہ ایک نیا مشاورتی ادارہ قائم کیا ہے، جسے شورائے مشاورت برائے حقوق، مساوات اور شمولیت کا نام دیا گیا ہے۔
نیشنل کونسل آف مسلمز نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اس قسم کی ساختی تبدیلیاں نفرت انگیزی کے خلاف جاری جدوجہد میں کسی بھی صورت رکاوٹ نہیں بننی چاہئیں۔ کونسل نے واضح کیا کہ وہ نئے مشاورتی ادارہ کے تحت بھی سرکاری عملے کی کارکردگی اور اقدامات پر گہری نظر رکھے گی تاکہ مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
کینیڈا کے وزیر برائے شناخت، ثقافت اور سرکاری زبانوں نے اس فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ دفاتر کا انضمام کسی بجٹ میں کمی کے لئے نہیں بلکہ ایک وسیع تر فریم ورک کے تحت کیا گیا ہے، جس کا مقصد قومی اتحاد، مساوات اور شمولیت کو فروغ دینا ہے۔
تاہم، ماہرین اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے خبردار کیا ہے کہ حالیہ برسوں میں اسلاموفوبیا کے واقعات میں واضح اضافہ ہوا ہے، جس کے پیش نظر عارضی یا علامتی اقدامات کے بجائے پائیدار، مسلسل اور واضح پالیسیوں کی اشد ضرورت ہے تاکہ معاشرے میں نفرت، تعصب اور امتیاز کا مؤثر طور پر مقابلہ کیا جا سکے۔




