
اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں شیعہ مسجد حضرت خدیجہ کبری سلام اللہ علیہا میں نمازِ جمعہ کے دوران خودکش دھماکے کے نتیجے میں کم از کم 24 افراد شہید اور 100 سے زائد زخمی ہو گئے، جبکہ بعض ذرائع ہلاکتوں کی تعداد 36 بتا رہے ہیں۔
دھماکے کے بعد دارالحکومت کے تمام اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی۔
یہ واقعہ گزشتہ تین ماہ میں اسلام آباد میں دوسرا بڑا دہشت گرد حملہ ہے۔
حملے کی ذمہ داری تاحال کسی گروہ نے قبول نہیں کی، تاہم داعش یا تحریک طالبان پاکستان پر شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
آیۃ اللہ حافظ سید ریاض حسین، علامہ سید ساجد علی نقوی، علامہ راجہ ناصر عباس اور علامہ سید شہنشاہ حسین نقوی سمیت پاکستان کے بزرگ اور ذمہ دار شیعہ علماء اور تنظیموں نے اس دہشت گردانہ حملے کی شدید مذمت کی ہے اور کاروائی کی مانگ کی ہے۔
اسی طرح ہندوستان سے مولانا سید کلب جواد نقوی جنرل سکریٹری مجلس علمائے ہند اور ہندوستان کے دیگر شیعہ علماء اور تنظیموں نے بھی اس دہشت گردی کی شدید مذمت کی ہے۔




