پاکستانخبریں

پاکستان فوج کے سائے میں؛ عمران خان اور ناقدین کے خلاف سیاسی دباؤ میں اضافہ اور آزادیٔ اظہار کی محدود فضا

پاکستان میں سابق وزیرِ اعظم عمران خان اور حکومت پر تنقید کرنے والوں کے خلاف دباؤ میں اضافہ ہو گیا ہے۔

ان کے اہلِ خانہ کے مطابق عمران خان کو پانچ ہفتوں سے زائد عرصے سے اپنے وکلا سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی اور بیرونی دنیا سے ان کا رابطہ سختی سے محدود کر دیا گیا ہے۔

صحافیوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے بھی پابندیوں اور دھمکیوں میں اضافہ کی اطلاع دی ہے۔

ایمان مزاری اور ان کے شوہر اُن میڈیا کارکنوں کی مثال ہیں جنہیں حکومت مخالف مواد شائع کرنے کے الزام میں 10 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

روزنامہ ’’ڈان‘‘ کی رپورٹ کے مطابق قانونی ترامیم، اور میڈیا و سوشل نیٹ ورکس پر سخت نگرانی نے سیاسی اختلاف کی گنجائش کو محدود کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں نیوز رومز میں خود سنسرشپ عام ہو چکی ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستانی فوج کے اثر و رسوخ اور عسکری کمانڈروں کے براہِ راست کردار نے آزادیٔ اظہار اور سیاسی سرگرمیوں کو غیر معمولی حد تک کم کر دیا ہے۔

یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ دباؤ محض عمران خان کے مقدمات تک محدود نہیں رہا بلکہ سول سوسائٹی اور میڈیا بھی ریاستی جبر کا نشانہ بن رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button