
لکھنو۔ شاہی آصفی مسجد میں 6 فروری 2026 کو نماز جمعہ حجۃ الاسلام والمسلمین مولانا سید رضا حیدر زیدی صاحب قبلہ پرنسپل حوزہ علمیہ غفرانمآب رحمۃ اللہ علیہ لکھنو کی اقتدا میں ادا کی گئی۔
مولانا سید رضا حیدر زیدی نے نمازیوں کو تقوی الہی کی نصیحت کرتے ہوئے فرمایا: تقوی یعنی اللہ کے احکام پر عمل کرنا، واجبات کا انجام دینا اور حرام کام سے بچنا۔ واجبات کے ساتھ ساتھ مستحبات کی ادائیگی اور حرام کے ساتھ ساتھ مکروہات سے بچنا معراجِ تقوی ہے۔
مولانا سید رضا حیدر زیدی نے حرام غذا کو تقوی کی موت بتاتے ہوئے کہا: پیٹ میں حرام غذا پہنچنے سے تقوی مفقود ہو جاتا ہے۔ لہذا پروردگار سے دعا ہے کہ وہ ہمیں توفیق دے کے ہم ہمیشہ حلال کھائیں حرام سے پرہیز کریں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ کی دعا "خدایا! ماہ رجب اور ماہ شعبان کو ہمارے لئے بابرکت بنا دے۔” کو بیان کرتے ہوئے مولانا سید رضا حیدر زیدی نے فرمایا: بیان کیا جاتا ہے کہ ماہ رجب استغفار کا مہینہ ہے اور ماہ شعبان محمد و آل محمد علیہم السلام پر صلوات بھیجنے کا مہینہ ہے۔
ماہ شعبان کے سلسلہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ کی حدیث "یہ ایک شریف مہینہ ہے اور یہ میرا مہینہ ہے۔ عرشِ الٰہی کو اٹھانے والے فرشتے اس مہینے کی عزت کرتے ہیں اور اس کی قدر کو جانتے ہیں۔ یہ وہ مہینہ ہے جس میں ایمان والوں کے رزق میں اضافہ ہوتا ہے، بالکل جیسے ماہ رمضان میں ہوتا ہے، اور اسی مہینے میں جنت کو سجایا جاتا ہے۔
اسی لئے اس مہینہ کا نام شعبان رکھا گیا ہے، کیونکہ اس میں ایمان والوں کے رزق بڑھ جاتے ہیں۔ یہ ایسا مہینہ ہے جس میں نیک اعمال کا ثواب کئی گنا ہو جاتا ہے؛ ایک نیکی پر ستر نیکیوں کا اجر ملتا ہے، برائیاں معاف کر دی جاتی ہیں، گناہ بخش دیے جاتے ہیں، اور نیک عمل قبول ہو جاتے ہیں۔ اس مہینہ میں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر فخر کرتا ہے، روزہ رکھنے والوں اور عبادت کرنے والوں کی طرف رحمت کی نظر فرماتا ہے، اور انہی بندوں پر فرشتوں کے سامنے فخر کرتا ہے۔” کو بیان کرتے ہوئے مولانا سید رضا حیدر زیدی نے فرمایا: رزق صرف کھانا پینا نہیں ہے، بلکہ نیکی اور خیر کی توفیق بھی رزق میں شامل ہے۔
مولانا سید رضا حیدر زیدی نے بیان کیا کہ جب حضور نے یہاں تک بیان کیا تو امیر المومنین امام علی علیہ السلام نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہو جائیں۔ ہمارے لئے ماہ شعبان کے مزید فضائل بیان کریں۔ یہاں یہ نکتہ قابل غور ہے کہ کسی کافر کو پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ پر قربان نہیں کیا جا سکتا، لہذا امیر المومنین کا یہی ایک جملہ حضرت ابو طالب علیہ السلام کے ایمان پر محکم دلیل ہے۔
ماہ شعبان کے روزوں کی اہمیت و فضائل بیان کرتے ہوئے مولانا سید رضا حیدر زیدی نے حکم شرعی بیان کیا کہ جس کے واجب روزے قضا ہوں وہ مستحب روزے نہیں رکھ سکتا۔
سورہ منافقون آیت 8 "ساری عزت اللہ , رسول اور صاحبان ایمان کے لئے ہے اور یہ منافقین یہ جانتے بھی نہیں ہیں.” کو بیان کرتے ہوئے مولانا سید رضا حیدر زیدی نے فرمایا: دشمن مومن کو قتل تو کر سکتا ہے لیکن اس کی عزت سلب نہیں کر سکتا۔
19 شعبان یوم غزوۂ بنی مصطلق کا ذکر کرتے ہوئے مولانا سید رضا حیدر زیدی نے فرمایا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ غزوۂ بنی مصطلق کے لئے نکلے تو مدینہ میں جناب ابوذر علیہ السلام کو اپنا وارث چھوڑ گئے۔ عالم اسلام کے لئے لمحہ فکریہ ہے کہ جب تھوڑے دن کے لئے حضور مدینہ کو ترک کر رہے ہیں تو وارث چھوڑ کر جا رہے ہیں تو کیسے ممکن ہے کہ دنیا سے ہمیشہ کے لئے جا رہے ہوں اور کوئی وارث چھوڑ کر نہ جائے۔ غدیر اسی اعلان وارث کا نام ہے۔



