خبریںشامعراق

عراق نے دمشق کی بین الاقوامی کتاب میلہ میں ایک فرقہ وارانہ اور اشتعال انگیز کتاب کی نمائش پر پابندی عائد کر دی

دمشق کے بین الاقوامی کتاب میلے 2026 میں ابو مصعب الزرقاوی، جو القاعدہ کے سابق رہنما اور دہشت گرد گروہ داعش کے بانی مانے جاتے ہیں، کی ایک کتاب پیش کی جانے والی تھی۔ یہ کتاب شیعہ مسلک کے خلاف لکھی گئی تھی۔

اس سلسلہ میں ہمارے ساتھی کی رپورٹ ملاحظہ فرمائیں:

دمشق کے بین الاقوامی کتاب میلے 2026 میں ابو مصعب الزرقاوی، جو القاعدہ کے سابق رہنما اور دہشت گرد گروہ داعش کے بانی مانے جاتے ہیں، کی ایک کتاب پیش کی جانے والی تھی۔ یہ کتاب شیعہ مسلک کے خلاف لکھی گئی تھی۔
میڈل ایسٹ نیوز کے مطابق، یہ متنازعہ کتاب "نقش” نامی ادلب کی ایک اشاعتی ادارے نے تیار کی تھی، اور اس کا عنوان تھا: “هل أتاك حدیث الرافضة” یعنی “کیا تم تک رافضیوں کی خبر پہنچی؟”

کتاب میں شیعوں کی تاریخ، عقائد اور اسلامی دنیا میں ان کے کردار کو ایک تنگ نظری اور دہشت گردانہ نقطۂ نظر سے پیش کیا گیا تھا۔ اس میں الزرقاوی کے خطابات اور خیالات کا خلاصہ بھی شامل تھا۔

سلفی، وہابی اور شدت پسند گروہ لفظ “رافضی” کو شیعہ برادری کے لیے توہین آمیز انداز میں استعمال کرتے ہیں، تاکہ نفرت پھیلائیں اور تشدد کو جائز قرار دیں۔

میڈل ایسٹ نیوز کے مطابق، جب اس کتاب کے اجراء کی خبر عام ہوئی تو مختلف حلقوں میں سخت ردعمل ظاہر کیا گیا، کیونکہ اس طرح کی تحریریں مذہبی منافرت کو بڑھاوا دیتی ہیں۔

عراقی انٹیلیجنس ادارے نے فوری طور پر حکومتِ شام سے رابطہ کیا اور کتاب کی نمائش و فروخت پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا۔ شام نے اس معاملے پر مؤثر کارروائی کرتے ہوئے کتاب کی نمائش روک دی۔

یہ اقدام نہ صرف ایک بروقت سکیورٹی فیصلہ تھا بلکہ اس سے کتاب میلہ نفرت انگیز افکار کے پرچار کا مرکز بننے سے بھی محفوظ رہا۔

ماہرین کے مطابق یہ واقعہ اس امر کی یاد دہانی ہے کہ ثقافتی اور علمی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھنا ضروری ہے، تاکہ کسی بھی ذریعے سے فرقہ پرستی یا انتہاپسندی کو فروغ نہ ملنے پائے۔

میڈل ایسٹ نیوز نے اس فیصلے کو سراہا اور اس بات پر زور دیا کہ انتہا پسند ناشرین کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے، کیونکہ کتاب اور ثقافت کے نام پر نفرت پھیلانے کی کوششیں صرف ایک ملک نہیں بلکہ پورے خطّے کے امن کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔

یہ اقدام انتہا پسند عناصر کے لیے ایک واضح پیغام سمجھا جا رہا ہے کہ اسلام یا ثقافت کے نام پر فرقہ وارانہ نفرت پھیلانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button