اسلامی دنیا

شیخ حسن شحاتہ کی شہادت کی تیرہویں برسی

دنیا بھر کے شیعوں نے شیخ حسن شحاتہ کی شہادت کی تیرہویں برسی منائی، جو مصر کے ایک نامور عالم دین اور استاد تھے۔

یہ مجاہد عالم سنہ ۲۰۱۳ میں اپنے تین بیٹوں اور ساتھیوں کے ساتھ سنی انتہا پسند اور وہابی شدت پسند گروہوں کے وحشیانہ حملے میں شہید ہو گئے۔

اس سلسلے میں همارے ساتھی کی رپورٹ پر توجہ کریں :

شیخ حسن شحاتہ ۱۹۴۶ میں مصر کے صوبے شرقیہ کے شہر ہربیط میں پیدا ہوئے، بچپن سے ہی اہل بیت علیہم السلام سے محبت کے لیے جانے جاتے تھے۔

انہوں نے ایک حنفی خاندان میں پرورش پائی تھی لیکن اہل بیت سے محبت اور اسلامی فکر کی ترویج کی کوشش نے ان کی زندگی کو شیعوں کے علمی اور ثقافتی دفاع کی طرف موڑ دیا۔

وہ مجالس عزا منعقد کرنے میں خاص دلچسپی رکھتے تھے، سلفی اور وہابی دھاروں کے ساتھ علمی مناظرے کرتے تھے اور ہمیشہ مصری معاشرے میں شیعوں کے حقوق کا دفاع کرتے تھے۔

‘العربی الجدید’ کی رپورٹ کے مطابق سنہ ۲۰۱۳ میں مسلح سنی انتہا پسندوں کے ایک گروہ نے شیخ شحاتہ اور ان کے ساتھیوں کے گھر پر حملہ کیا اور انہیں تیز ہتھیار، ڈنڈے اور آتش گیر مواد سے مارا اور وہ اپنے تین بیٹوں اور کئی پیروکاروں کے ساتھ شہید ہو گئے۔

یہ واقعہ جدید مصر کے سب سے خوفناک فرقہ وارانہ جرائم میں سے ایک سمجھا جاتا ہے اور اس نے شیعہ برادری اور حقوق انسانی کے محافظوں میں وسیع ردعمل پیدا کیا تھا۔

شیخ حسن شحاتہ نے کہا تھا: "میں بچپن سے اہل بیت علیہم السلام کی محبت میں پلا بڑھا اور میرے والد ہمیشہ امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام کی شخصیت سے میرا تعارف کراتے تھے۔”

انہوں نے بار بار زور دیا تھا کہ دین پر قائم رہنا اور شیعوں کا دفاع کرنا نہ جرم ہے اور نہ خطرہ، بلکہ یہ ایک اخلاقی اور انسانی فریضہ ہے۔

آج شیخ حسن شحاتہ کی یاد کو حسینی مجالس اور اہل بیت علیہم السلام کی تکریم کی تقریبات میں زندہ رکھا جاتا ہے اور حقوق انسانی کے نگران اور مصری شیعہ برادری عقیدے کی آزادی اور اقلیتوں کی سلامتی کی ضرورت پر زور دیتے رہتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button