غیر درجہ بندی

افغانستان میں نصفِ شعبان کی اہمیت؛ پابندیوں کے سائے میں شیعہ برادری کی یکجہتی کی جھلک

افغانستان میں رواں سال بھی مخصوص حالات کے باوجود نصفِ شعبان بہت سے لوگوں، بالخصوص شیعہ برادری کے لئے امید، باہمی ہمدردی اور سماجی ربط کی علامت بنا رہا۔

کابل، بلخ، بامیان اور دایکندی جیسے شہروں اور صوبوں میں دعا، سماجی یکجہتی اور عدل و انصاف کی یاد کے محور پر مذہبی تقاریب منعقد ہوئیں، جبکہ مساجد اور امام بارگاہوں میں عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

ان اجتماعات نے ثابت کیا کہ نصفِ شعبان اب بھی معاشرے کی اجتماعی اور دینی روح کو تقویت دینے میں ایک اہم مقام رکھتا ہے۔

مزید برآں، افغانستان کے مقامی ذرائع ابلاغ نے رپورٹ کیا کہ کابل کے بعض علاقوں میں جشن کی بیرونی سرگرمیوں پر کچھ پابندیاں عائد کی گئیں اور چند زیارت گاہوں کے اطراف سے مذہبی پرچم ہٹا دیے گئے۔

علاقائی میڈیا میں شائع ہونے والی زمینی رپورٹس کے مطابق یہ اقدامات گزشتہ برسوں کی پابندیوں کے تسلسل میں کئے گئے۔

اس کے برعکس، افغانستان کے بعض ذرائع ابلاغ نے صوبہ بلخ سے خبر دی کہ وہاں نصفِ شعبان کی تقریبات پُرسکون ماحول میں اور کسی رکاوٹ کے بغیر منعقد ہوئیں، جہاں مقررین نے باہمی ہمدردی، بھائی چارے اور ظلم کے مقابلے میں اتحاد و یکجہتی کی ضرورت پر زور دیا۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button