
پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے صوبہ بلوچستان میں علیحدگی پسند مسلح گروہوں کے مربوط حملوں کے بعد، جن میں 190 سے زائد افراد ہلاک ہوئے، حملہ آور عناصر کی نشاندہی اور سرکوبی کے لئے بڑے پیمانے پر آپریشن شروع کر دیا ہے۔
ان کارروائیوں میں حملہ آوروں کے زیرِ اثر علاقوں کی صفائی اور ان کے ٹھکانوں کا تعاقب شامل ہے۔ فوج اور پولیس کے بروقت ردِعمل کے نتیجے میں صوبہ کے اہم حصے دوبارہ حکومتی کنٹرول میں آ گئے ہیں۔
اس حوالے سے ہمارے ساتھی رپورٹر کی تحقیقی رپورٹ ملاحظہ کیجیے:
گزشتہ ہفتہ پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں علیحدگی پسند مسلح گروہوں کی جانب سے مربوط حملوں کی ایک لہر دیکھی گئی، جن میں بینکوں، جیلوں، اسکولوں اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ ان حملوں میں 190 سے زائد افراد ہلاک ہوئے، جن میں 31 عام شہری اور 17 سیکیورٹی اہلکار شامل تھے۔
گروہ "بلوچستان لبریشن آرمی” نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ ان کے اہداف سرکاری اور فوجی تنصیبات تھے۔
یہ حملے حالیہ برسوں میں پاکستان کے اس غریب مگر وسائل سے مالا مال صوبہ میں سب سے جری اور بڑے اقدامات میں شمار کئے جا رہے ہیں۔
حملوں کے بعد پاکستانی فوج اور سیکیورٹی فورسز نے وسیع پیمانے پر آپریشن کا آغاز کیا۔
روزنامہ ڈان کی رپورٹ کے مطابق ان کارروائیوں کے دوران 145 مسلح شدت پسند مارے گئے، جبکہ سیکیورٹی اہلکاروں اور شہریوں کی مجموعی ہلاکتوں کی تعداد بدستور 48 بتائی جا رہی ہے۔
خبر رساں ادارے انادولو کے مطابق صوبہ بلوچستان کے وزیرِ اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے اعلان کیا کہ تمام متاثرہ علاقوں کو کلیئر کر لیا گیا ہے اور فورسز حملہ آوروں کے ٹھکانوں تک ان کا تعاقب جاری رکھے ہوئے ہیں۔
ریڈیو فردا کے مطابق یہ آپریشن ایسے وقت میں کئے گئے جب امن و امان برقرار رکھنے اور تشدد کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے صوبے میں انٹرنیٹ اور رفت و آمد محدود کر دی گئی تھی۔
سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مسلح گروہوں کی تنظیم سازی اور ہم آہنگی کی صلاحیت میں اضافہ ہوا ہے، جو بلوچستان اور پاکستان کے دیگر علاقوں کے استحکام کے لئے مزید خطرات پیدا کر سکتا ہے۔
پاکستان گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچ علیحدگی پسند شورش کا سامنا کر رہا ہے۔ بلوچستان، معدنی وسائل کی فراوانی کے باوجود، ملک کا سب سے غریب صوبہ ہے اور مسلح گروہ حکومت پر الزام عائد کرتے ہیں کہ وہ وسائل کا غیر منصفانہ استعمال کر رہی ہے اور مقامی آبادی کو محرومی میں مبتلا رکھے ہوئے ہے۔ پاکستانی حکومت نے بھارت پر حملہ آوروں کی حمایت کا الزام بھی لگایا ہے، تاہم نئی دہلی نے ان الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔
یہ رپورٹ ظاہر کرتی ہے کہ سیکیورٹی فورسز کے تیز اور مربوط اقدامات، اور مسلح گروہوں کے زیرِ اثر علاقوں کی صفائی نے بلوچستان میں امن کی بحالی میں مؤثر کردار ادا کیا اور بحران کے مزید پھیلاؤ کو روک دیا۔




