افریقہ کی دو بڑی معیشتیں نائجیریہ اور جنوبی افریقہ تبدیلی اور نئی سمت کے دہانے پر

نائجیریہ اور جنوبی افریقہ، جو افریقہ کی دو بڑی معیشتیں شمار ہوتی ہیں اور گزشتہ دہائی میں معاشی جمود اور عوامی خوشحالی میں کمی کا سامنا کرتی رہی ہیں، اب معاشی بحالی اور سمت میں تبدیلی کے آثار دکھا رہی ہیں۔
ماہرین کا اندازہ ہے کہ یہ تبدیلیاں 2026 میں براعظم افریقہ کی اقتصادی ترقی میں اضافہ کر سکتی ہیں اور افریقہ کو بعض ایشیائی معیشتوں سے بھی آگے لے جا سکتی ہیں۔
اس موضوع پر ہمارے ساتھی رپورٹر نے اپنی رپورٹ میں جائزہ پیش کیا ہے، آئیے ساتھ دیکھتے ہیں:
نائجیریہ اور جنوبی افریقہ مل کر افریقی صحراء کی مجموعی قومی پیداوار کا تقریباً ایک تہائی حصہ تشکیل دیتے ہیں اور انہیں اس براعظم کے اقتصادی ستون سمجھا جاتا ہے۔
گزشتہ دس برسوں میں دونوں ممالک معاشی جمود کا شکار رہے ہیں اور جائزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان ممالک کے شہری آج اوسطاً سنہ 2015 کے مقابلے میں زیادہ غریب ہیں۔
ان دو بڑی معیشتوں کی کمزور کارکردگی نے پورے خطہ کی اقتصادی پیش رفت کو سست کر دیا اور ترقی کے مواقع محدود ہو گئے۔
تاہم حالیہ عرصہ میں نائجیریہ اور جنوبی افریقہ میں معاشی بحالی کے نئے آثار نمایاں ہوئے ہیں۔
جریدہ دی اکانومسٹ کی رپورٹ کے مطابق اقتصادی اصلاحات، بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری، اور تیل و گیس کی پیداوار میں اضافے نے ان ممالک کو دوبارہ ترقی کی راہ پر ڈال دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ رجحان برقرار رہا تو نہ صرف داخلی خوشحالی میں اضافہ ہوگا بلکہ پورے افریقہ میں اقتصادی ترقی کے لئے ایک مضبوط محرک بھی فراہم ہوگا۔
بین الاقوامی مطالعات، جن میں رپورٹ “افریقہ کی دو بڑی معیشتیں ممکنہ طور پر ترقی اور بحالی کے راستے پر گامزن ہو چکی ہیں” بھی شامل ہے، اس امر پر زور دیتی ہیں کہ اگر اصلاحاتی پالیسیاں اور وسائل کا مؤثر انتظام جاری رہا تو 2026 میں افریقہ کی اقتصادی ترقی حتیٰ کہ ایشیا سے بھی آگے نکل سکتی ہے۔
یہ تبدیلی روزگار کے نئے مواقع، غربت میں کمی اور کروڑوں افراد کے معیارِ زندگی میں بہتری کے امکانات پیدا کر سکتی ہے، اور عالمی سطح پر افریقہ کے معاشی منظرنامہ کو بہتر بنا سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق نائجیریہ اور جنوبی افریقہ میں حالیہ پیش رفت نے افریقہ کی بڑی معیشتوں میں پائیدار ترقی اور سماجی خوشحالی کے لئے نئی امیدیں پیدا کی ہیں اور اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ براعظم افریقہ واقعی تبدیلی اور پیش رفت کے راستے پر گامزن ہے۔




