
پاکستان میں حالیہ دنوں کے دوران سیکیورٹی صورتحال ایک تشویشناک مرحلے میں داخل ہو گئی ہے اور بیک وقت اس ملک کے کئی صوبے مسلح حملوں، فوجی آپریشنز، عوامی خدمات میں خلل اور شہریوں کی بڑے پیمانے پر نقل مکانی کا شاہد رہے ہیں۔
صوبہ بلوچستان میں خونریز جھڑپوں اور شمال مغربی پاکستان میں فوجی آپریشن کی توسیع کے امکان کے بارے میں انتباہات نے اس ملک کی سیکیورٹی صورتحال کو علاقائی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔
صوبہ بلوچستان میں مسلح گروہوں کی جانب سے سیکیورٹی مراکز، جیلوں اور پولیس چوکیوں پر مربوط حملوں کی اطلاع ملی ہے اور کوئٹہ شہر کے کچھ علاقوں میں سڑکیں بند ہونے اور مواصلاتی خدمات منقطع ہونے کا مشاہدہ کیا گیا ہے۔
بین الاقوامی ذرائع ابلاغ بشمول فرانسیسی خبر رساں ادارے اور بی بی سی کے حوالے سے، پاکستانی فوج نے صفائی کی کارروائیوں کے دوران درجنوں جنگجوؤں اور متعدد سیکیورٹی اہلکاروں اور شہریوں کی ہلاکت کی خبر دی ہے اور نام نہاد "بلوچستان لبریشن آرمی” نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔
اسی اثنا میں، رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق، صوبہ خیبر پختونخوا اور خاص طور پر تیرہ وادی میں، مساجد سے نشر کردہ ممکنہ فوجی کارروائی کے انتباہات کے بعد ہزاروں خاندان اپنے گھر چھوڑنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔
یہ بڑے پیمانے پر نقل مکانی، پاکستان میں تشدد کے تسلسل کے انسانی اور سیکیورٹی نتائج کے بارے میں خدشات میں اضافہ کر رہی ہے۔




