11 شعبان المعظم، یوم ولادت باسعادت حضرت علیاکبر علیہ السلام

11 شعبان امام حسین علیہ السلام کے رشید اور باوقار فرزند حضرت علی اکبر علیہ السلام کی ولادت با سعادت کا دن ہے۔ یہ موقع اس عظیم ہستی کی سیرت اور مثالی شخصیت پر غور و فکر کا بہترین موقع فراہم کرتا ہے۔
وہ جوان جن کی بے مثال مشابہت رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے تھی اور جنہوں نے ایمان، غیرت اور فداکاری کی تاریخ میں اپنا نام ہمیشہ کے لئے روشن کر دیا۔
اس حوالے سے ہمارے ساتھی نے ایک رپورٹ تیار کی ہے، جسے ہم ساتھ دیکھتے ہیں۔
ماہِ شعبان اہلِ بیت علیہم السلام کی خوشی اور مسرت کا مہینہ ہے اور اس ماہ کی گیارہ تاریخ حضرت علیاکبر علیہ السلام، امام حسین علیہ السلام اور حضرت لیلیٰ کے بڑے فرزند، کی ولادت سے منسوب ہے۔
وہ جوان جو تاریخِ اسلام میں “گلِ ہاشمی” اور رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مکمل آئینہ کہلائے جاتے ہیں۔
تاریخی مصادر کے مطابق حضرت علیاکبر علیہ السلام چہرے، گفتار اور اخلاق میں رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سب سے زیادہ مشابہ تھے۔
شیخ جعفر شوشتری اپنی کتاب خصائص الحسینیہ میں امام حسین علیہ السلام سے نقل کرتے ہیں: “جب ہمیں رسولِ خدا کی یاد ستاتی، ہم علیاکبر کے چہرے کی طرف دیکھتے تھے۔”
یہ مشابہت صرف ظاہری نہیں تھی بلکہ سیرت، ادب، ایمان اور الٰہی اخلاق میں بھی نمایاں تھی۔
اگرچہ حضرت علیاکبر علیہ السلام کی زندگی کی تفصیلات تاریخ میں زیادہ محفوظ نہیں رہیں، مگر جو کچھ منقول ہے وہ بلند روح، گہری تقویٰ اور الٰہی تربیت کی عکاسی کرتا ہے۔
امام حسین علیہ السلام نے قرآن، دینی معارف اور اسلامی اخلاق کی تعلیم کے ذریعہ ایسے فرزند کی پرورش فرمائی کہ دشمن بھی ان کی عظمتِ کردار کے معترف تھے۔
تاریخی روایات میں مدینہ کے والی کے ساتھ حضرت علیاکبر علیہ السلام کا وہ مکالمہ بھی ملتا ہے، جس میں امام حسین علیہ السلام کے فرزندان میں “علی” نام کی تکرار پر وہ ناراض ہوا تھا۔ یہ واقعہ امیرالمؤمنین علی علیہ السلام سے امام حسین علیہ السلام کی گہری محبت اور اہلِ بیت علیہم السلام کے فکری راستے کی علامت ہے۔
یہاں تک کہ امام حسین علیہ السلام نے فرمایا: اگر میرے درجنوں بیٹے ہوں تو سب کے نام علی اور فاطمہ رکھوں گا۔
واقعۂ کربلا میں حضرت علیاکبر علیہ السلام کا کردار نہایت فعال اور فیصلہ کن تھا، اور وہ روزِ عاشورا بنی ہاشم کے پہلے شہید تھے۔ ان کی شجاعت، بصیرت اور فداکاری نے انہیں تمام زمانوں کے نوجوانوں کے لیے ایک دائمی نمونہ بنا دیا۔
حضرت علیاکبر علیہ السلام مؤمن، آزاد منش اور ذمہ دار نوجوان کی روشن علامت ہیں؛ ایسے جوان جنہوں نے حق کی راہ میں اپنی جان قربان کر کے آزادی، وفاداری اور حق پرستی کا سبق ہمیشہ کے لیے تاریخ میں رقم کر دیا۔




