افغانستانایشیاء

علاقائی سفارت کاری میں تبدیلی کے آثار؛ ماسکو اور بیجنگ کی جانب سے طالبان کے نمائندے کی پذیرش کے پوشیدہ پیغامات

روس اور چین کی جانب سے طالبان حکومت کے بارے میں حالیہ سرگرمیاں، جن میں ماسکو میں کابل کے باضابطہ نمائندے کی پذیرش بھی شامل ہے، افغانستان کے حوالے سے غیر مغربی طاقتوں کے رویّے میں بتدریج تبدیلی کی عکاسی کرتی ہیں۔

یہ تبدیلی علاقائی سیاسی، سلامتی اور معاشی توازن پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔

اس سلسلہ میں ہمارے ساتھی رپورٹر کی رپورٹ پر توجہ دیں‌۔

جنوری کے وسط میں روسی صدر کی جانب سے طالبان حکومت کے سفیر کی اسنادِ سفارت قبول کرنا محض ماسکو کے سفارتی کیلنڈر کا ایک رسمی واقعہ نہیں سمجھا جا رہا۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اقدام روس کی خارجہ پالیسی میں ایک منظم عمل کا حصہ ہے، جس کے تحت افغانستان کو نئی علاقائی مساوات میں ایک اہم عنصر کے طور پر ازسرِنو متعین کیا جا رہا ہے۔

علاقائی تجزیاتی ذرائع ابلاغ اس پیش رفت کو افغانستان کے معاملے میں کریملن کی زیادہ فعال شمولیت کی علامت قرار دے رہے ہیں۔

افغانستان کے بعض سیاسی ذرائع ابلاغ کے مطابق روس نے 2024 سے طالبان کا نام اپنی دہشت گرد تنظیموں کی فہرست سے نکال کر کابل کے ساتھ تعامل کا نیا راستہ اختیار کیا ہے۔

ان ذرائع کا کہنا ہے کہ مغربی دباؤ میں اضافہ کے تناظر میں ماسکو ان ریاستوں کے ساتھ تعلقات بڑھانا چاہتا ہے جو مغربی بلاک سے باہر سمجھی جاتی ہیں، اور اس فریم ورک میں افغانستان کو ایک اسٹریٹجک مقام حاصل ہو گیا ہے۔

بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی رپورٹس یہ بھی ظاہر کرتی ہیں کہ روس کا یہ رویہ چین کی پالیسیوں کے ساتھ ہم آہنگی میں سمجھا جا سکتا ہے۔

بیجنگ اس سے قبل طالبان کے نمائندے کو قبول کر کے افغانستان کے حوالے سے اپنا عملی اور حقیقت پسندانہ نقطۂ نظر واضح کر چکا ہے۔

مبصرین کے مطابق چین افغانستان کو علاقائی جیو اکنامک روابط کا حصہ سمجھتا ہے، خصوصاً اپنے بڑے ترانزٹ اور معاشی منصوبوں کے تناظر میں۔

جیوپولیٹیکل زاویے سے تجزیاتی ذرائع اس بات پر زور دیتے ہیں کہ افغانستان کی جغرافیائی حیثیت اور اہم علاقائی ممالک کے ساتھ اس کی سرحدیں، اسے وسطی ایشیا کی سلامتی میں ایک مؤثر کردار عطا کرتی ہیں۔

روس اور چین طالبان کے ساتھ محتاط اور حساب شدہ تعامل کے ذریعہ سرحد پار سلامتی خطرات پر قابو پانے اور مغربی طاقتوں کے اثر و رسوخ کو روکنے کے خواہاں ہیں۔

ماہرین کے نزدیک تجزیاتی رپورٹس میں جھلکنے والی صورتِ حال اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ غیر مغربی طاقتیں طالبان کے بارے میں ایک بتدریج مگر مقصدی حکمتِ عملی اختیار کر رہی ہیں۔

ایسی حکمتِ عملی جو عالمی نظم کی تبدیلی کے اس مرحلے میں افغانستان کے مقام کو ازسرِنو متعین کر سکتی ہے اور علاقائی تعاملات کے لئے ایک نئی راہ ہموار کر سکتی ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button