یونیسف کا افغانستان میں تعلیمی بحران پر انتباہ؛ دس سالہ بچوں میں سے 90 فیصد سے زائد پڑھنے سے قاصر

اقوامِ متحدہ کے بچوں کے فنڈ (یونیسف) نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان کا تعلیمی نظام شدید بحرانی کیفیت سے دوچار ہے اور دس سال کی عمر کے 90 فیصد سے زائد بچے ایک سادہ متن تک پڑھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔
یہ صورتِ حال سیکھے بغیر تعلیم کی عکاس ہے اور طالبان کی اقتدار میں واپسی کے بعد تعلیمی بنیادوں کے انہدام کی نشاندہی کرتی ہے۔
خبر رساں ایجنسی فرانس کی رپورٹ کے مطابق، یونیسف نے بتایا کہ اسکولوں کی بندش، اہل اور تربیت یافتہ اساتذہ کی کمی، اور نصاب پر عائد پابندیاں افغانستان کے بچوں میں وسیع پیمانے پر ناخواندگی کی بنیادی وجوہات ہیں۔
اس بین الاقوامی ادارہ نے زور دیا کہ اگر فوری اصلاحات اور بنیادی تعلیم میں مسلسل سرمایہ کاری نہ کی گئی تو بچوں کی خواندگی اور ریاضی کی مہارتیں مزید کمزور ہو جائیں گی، جس سے ملک کی افرادی قوت کے مستقبل اور سماجی ترقی کو سنگین خطرات لاحق ہوں گے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ لڑکیوں اور لڑکوں دونوں کے لئے جامع تعلیم اور بین الاقوامی معاونت ناگزیر ہے اور بین النسلی ناخواندگی کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے فوری اقدامات نہایت اہم ہیں۔




