
عراق کے قومی انٹیلی جنس ادارہ کے سربراہ حمید الشطری نے خبردار کیا ہے کہ شام میں دہشت گرد تنظیم داعش کے انتہا پسند سنی گروہوں نے گزشتہ ایک سال کے دوران نمایاں طور پر خود کو دوبارہ منظم اور مضبوط کیا ہے، جس کے نتیجے میں اس کے جنگجوؤں کی تعداد تقریباً 2000 سے بڑھ کر قریب 10000 تک پہنچ گئی ہے۔
واشنگٹن پوسٹ سے گفتگو میں حمید الشطری نے کہا کہ داعش ایک منظم اور مربوط اکائی کے طور پر کام کر رہی ہے اور شمال مشرقی شام میں سکیورٹی کی بگڑتی ہوئی صورتحال اور مختلف علاقوں کے کنٹرول میں تبدیلیوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے نئے ٹھکانے قائم کرنے اور نئے افراد کو بھرتی کرنے میں کامیاب ہو رہی ہے۔
روسیہ الیوم کی رپورٹ کے مطابق، الشطری نے مزید بتایا کہ شام میں حالیہ پیش رفت اور جیلوں میں بدامنی کے باعث داعش کے متعدد قیدی فرار ہونے میں کامیاب ہوئے، جس سے اس گروہ کو اپنی صفوں کو مضبوط کرنے کا موقع ملا۔ انہوں نے کہا کہ داعش سکیورٹی خلا سے فائدہ اٹھا کر خطہ میں اپنی موجودگی کو مزید مستحکم کر رہی ہے۔
ماہرین نے بھی خبردار کیا ہے کہ داعش کی اس دوبارہ سرگرمی اور تنظیمِ نو کا عمل خطہ کے امن و استحکام کے لئے ایک سنگین خطرہ ہے، جس کے اثرات نہ صرف شام بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی پر مرتب ہو سکتے ہیں۔




