اقوامِ متحدہ کے سکریٹری جنرل کی وارننگ: عالمی سطح پر بین الاقوامی قانون سے چشم پوشی اور ’’جنگل راج‘‘ کی بالادستی عالمی امن و سلامتی کے لئے سنگین خطرہ

اقوامِ متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے ایک تشویشناک عالمی رجحان سے خبردار کیا ہے جس میں دنیا بھر میں بین الاقوامی قانون کی پاسداری کو بتدریج نظرانداز کیا جا رہا ہے اور اس کی جگہ ’’جنگل راج‘‘ لے رہا ہے۔
انہوں نے غزہ سے یوکرین تک طویل تنازعات، شہری بنیادی ڈھانچے پر حملوں، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور انسانی امداد کی راہ میں رکاوٹوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ طرزِ عمل غیر ذمہ داری کو فروغ دیتا ہے، تشدد میں اضافہ کرتا ہے اور ریاستوں کے درمیان اعتماد کو کمزور کرتا ہے۔
خبر رساں ایجنسی خاما پریس کے مطابق، اقوامِ متحدہ کے سکریٹری جنرل نے سلامتی کونسل کے اس اجلاس میں، جس کی گردشی صدارت صومالیہ کے پاس تھی، رکن ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ تنازعات کے حل کے لئے مکالمے اور ثالثی کا راستہ اختیار کریں، انسانی حقوق کا تحفظ یقینی بنائیں، ریاستی خودمختاری اور آزاد عدالتی نظام کا احترام کریں۔
بین الاقوامی قانون کے ماہرین نے بھی خبردار کیا ہے کہ مؤثر نفاذی نظام کی کمی اور سلامتی کونسل میں سیاسی جمود، جوابدہی کے قیام اور منصفانہ و پائیدار امن کے حصول میں بڑی رکاوٹ ہیں۔
اقوامِ متحدہ کے سکریٹری جنرل نے زور دے کر کہا کہ حقیقی انصاف اور جوابدہی کے بغیر پائیدار امن کا حصول ممکن نہیں۔




