عالمی تنظیمِ نفیِ تشدد کا اسلامی معاشروں میں انتہاپسندی کے انسداد اور پُرامن بقائے باہمی کے فروغ میں تعلیم کے بنیادی کردار پر زور

عالمی یومِ تعلیم کے موقع پر عالمی تنظیمِ نفیِ تشدد (فری مسلم) کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں علم کو آگہی، اخلاق اور پُرامن بقائے باہمی کا بنیادی ستون قرار دیا گیا ہے۔
اس بیان میں تعلیم کو محض ایک شہری حق یا فردی کامیابی سے بڑھ کر ایک دینی فریضہ اور اخلاقی ذمہ داری کے طور پر بیان کیا گیا ہے، جو اسلامی معاشروں کو تشدد اور انتہاپسندی کے خلاف مضبوط بناتی ہے اور پائیدار ترقی و سماجی انصاف کی راہ ہموار کرتی ہے۔
شیعہ خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، عالمی تنظیمِ نفیِ تشدد نے کہا ہے کہ اسلام نے آغاز ہی سے "اِقرأ” کے فرمان کے ذریعہ علم کی اہمیت پر زور دیا ہے اور مؤثر تعلیم انتہا پسندانہ افکار کے مقابلے اور نفیِ تشدد کی ثقافت کے فروغ کا سب سے طاقتور ذریعہ ہے۔
"فری مسلم” نے اپنے بیان میں تعلیمی نصاب کی اصلاح، نفرت پھیلانے والے تصورات کے خاتمے، تنقیدی فکر کے فروغ اور تمام طبقات خصوصاً خواتین اور اقلیتوں کے لئے تعلیم تک مساوی رسائی کو ناگزیر قرار دیا ہے۔
عالمی تنظیمِ نفیِ تشدد نے تعلیم میں پائیدار سرمایہ کاری پر بھی زور دیا اور خبردار کیا ہے کہ اس شعبہ سے غفلت تشدد، انتہاپسندی کے فروغ اور سماجی امن کے لئے خطرات کو جنم دے سکتی ہے۔




