خبریںشیعہ مرجعیت

اگر انسان قنوت میں دعا پڑھے لیکن ہاتھ نہ اٹھائے تو بھی قنوت صحیح ہے، کیونکہ قنوت ذکرِ خدا ہے: آیۃ اللہ العظمیٰ شیرازی

مرجع عالی قدر آیۃ اللہ العظمیٰ سید صادق حسینی شیرازی دام ظلہ کا روزانہ کا علمی جلسہ حسب دستور اتوار 6 شعبان 1447 ہجری کو منعقد ہوا۔
جس میں گذشتہ جلسات کی طرح حاضرین کے مختلف فقہی سوالات کے جوابات دیے گئے۔

قنوت کے بعض احکام کے بارے میں آیۃ اللہ العظمیٰ شیرازی نے فرمایا: قنوت کے معنی دعا کے ہیں اور مستحب ہے کہ انسان قنوت کے وقت اپنے ہاتھ بلند کرے۔

معظم لہ نے مزید فرمایا: کتاب عروۃ الوثقی میں آیا ہے کہ انسان قنوت میں ایک ہاتھ بھی اٹھا سکتا ہے، اگرچہ افضل یہ ہے کہ دونوں ہاتھ اٹھائے۔

آپ نے یہ بھی تاکید فرمائی کہ افضل یہ ہے کہ انسان اپنے ہاتھ کھلے رکھے اور آسمان کی طرف کرے۔

آیۃ اللہ العظمیٰ شیرازی نے آخر میں فرمایا: اگر انسان قنوت کے دوران دعا پڑھتا ہے لیکن اپنے ہاتھ بلند نہیں کرتا تو اس کا قنوت صحیح ہے، کیونکہ قنوت دراصل ذکرِ الٰہی ہے۔

واضح رہے کہ مرجع عالی قدر آیۃ اللہ العظمیٰ سید صادق حسینی شیرازی دام ظلہ کے یہ روزانہ علمی نشستیں قبل از ظہر منعقد ہوتی ہیں، جنہیں براہ راست امام حسین علیہ السلام سیٹلائٹ چینل کے ذریعے یا فروکوئنسی 12073 پر دیکھا جا سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button