ہندوستان

غدیر اعلان ولایت ہے اور کربلا اس کی محافظ: مولانا سید رضا حیدر زیدی

لکھنو۔ شاہی آصفی مسجد میں 23 جنوری 2026 کو نماز جمعہ حجۃ الاسلام والمسلمین مولانا سید رضا حیدر زیدی صاحب قبلہ پرنسپل حوزہ علمیہ غفرانمآب رحمۃ اللہ علیہ لکھنو کی اقتدا میں ادا کی گئی۔

مولانا سید رضا حیدر زیدی نے نمازیوں کو تقوی الہی کی نصیحت کرتے ہوئے فرمایا: کم سے کم تقوی یہ ہے کہ واجبات پر عمل کرے اور حرام سے بچے، پھر اگلا قدم مستحبات پر عمل کرنا، مکروہات سے بچنا ہے۔

مولانا سید رضا حیدر زیدی نے مزید فرمایا: بعض علماء نے تقویٰ کا مفہوم اس طرح سے بیان کیا ہے کہ تقوی یعنی اپنی ذمہ داری کا احساس، ایک خشک تقوی ہوتا ہے، خشک تقوی یہ ہے کہ جب ظالم کے مقابلے میں قیام کا وقت آئے یہ سجدے میں چلا جائے یہ تقوی نہیں ہے یہ ڈھونگ ہے، یہ دکھاوا ہے، تقوی یعنی جو ذمہ داری ہے اسے صحیح طریقے سے ادا کرے۔

واضح رہے کہ تقریبا 2 برس سے مولانا سید رضا حیدر زیدی نماز جمعہ کے پہلے خطبہ میں امیر المومنین امام علی علیہ السلام کے خطبہ غدیر کی شرح بیان کر رہے ہیں، جو آج یوم ولادت باسعادت امام حسین علیہ السلام 3 شعبان المعظم 1447 کو اختتام پذیر ہوئی اور انشاء اللہ عنقریب 700 صفحات پر مشتمل یہ شرح کتابی شکل میں زیور طبع سے آراستہ ہو کر منظر عام پر آنے والی ہے۔

مولانا سید رضا حیدر زیدی نے 3 شعبان اور خطبہ غدیر کے باہمی ربط کے سلسلہ میں بیان فرمایا: 3 شعبان حضرت امام حسین علیہ السلام کی ولادت باسعادت کا دن ہے، خطبہ غدیر کا اختتام اس دن ہونا اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ ولایت علی علیہ السلام کی حفاظت اور بقا امام حسین علیہ السلام کی قربانی سے وابستہ ہے، غدیر میں ولایت کا اعلان ہوا اور کربلا میں اس اعلان کی حفاظت خون شہادت سے کی گئی، غدیر سے کربلا تک کا سفر: غدیر اعلان ولایت کا نقطہ آغاز ہے جبکہ کربلا اس ولایت پر ثابت قدمی، قربانی اور عملی دفاع کی معراج ہے یوں کہا جا سکتا ہے کہ غدیر نے نظریہ دیا اور کربلا نے اس نظریے کو حیات ابدی عطا کی، کربلا کے بعد اگرچہ ائمہ علیہم السلام کو ظاہری حکومت نہیں ملی مگر ولایت کی تبلیغ، تعلیم اور فکری بقا کا ایک نیا دور شروع ہوا اور پیغام غدیر کو دوسروں تک پہنچایا گیا۔

مناجات شعبانیہ کا ذکر کرتے ہوئے مولانا سید رضا حیدر زیدی نے فرمایا: اس مناجات کو ضرور پڑھا کریں اس سے ایمان اور توفیقات میں اضافہ ہوگا۔

3 شعبان یوم ولادت امام حسین علیہ السلام کا ذکر کرتے ہوئے مولانا سید رضا حیدر زیدی نے فرمایا: یہ دن درس دیتا ہے کہ ہم حق پر ڈٹے رہیں ظالم سے خوف زدہ نہ ہوں۔

4 شعبان یوم ولادت حضرت عباس علیہ السلام کا ذکر کرتے ہوئے مولانا سید رضا حیدر زیدی نے فرمایا: یہ دن ہمیں درس دیتا ہے کہ ہم اپنے دین سے بھی وفاداری کریں، اپنے احباب سے بھی وفاداری کریں۔

5 شعبان یوم ولادت امام زین العابدین علیہ السلام کا ذکر کرتے ہوئے مولانا سید رضا حیدر زیدی فرمایا: امام زین العابدین علیہ السلام نے یزید کے دربار میں فرمایا: "خدا کی لعنت ہو جس نے میرے والد کو قتل کیا۔” یعنی اس پر لعنت جس نے خنجر چلایا، اس پر لعنت جس نے اسباب مہیا کئے اور اس پر بھی لعنت جو اس قدر سے خوش ہوا۔ مولا نے تبرا کرنے کے لئے بہترین درس دیا۔

7 شعبان ولادت حضرت قاسم علیہ السلام کا ذکر کرتے ہوئے مولانا سید رضا حیدر زیدی نے فرمایا: شوق شہادت کا درس حضرت قاسم علیہ السلام سے حاصل کرنا چاہیے۔

میڈیا کے پروپگنڈوں کا ذکر کرتے ہوئے مولانا سید رضا حیدر زیدی نے فرمایا: یہ سلسلہ جاری رہے گا البتہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم حسب امکان اس کا دفاع اور جواب دیتے رہیں۔

عالمی منظر نامہ اور حالات حاضرہ کو بیان کرتے ہوئے مولانا سید رضا حیدر زیدی نے فرمایا: طاقت صرف ہتھیار نہیں ہے، استقامت اور حکمت والے فیصلے بھی طاقت بن جاتے ہیں۔

امیر المومنین علیہ السلام کے لہجے میں حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے خطبہ کا ذکر کرتے ہوئے مولانا سید رضا حیدر زیدی نے فرمایا: حق اگر کمزور لہجے میں کہا جائے تو کمزور پڑ جاتا ہے لیکن اگر سخت لہجے میں، شجاعت کے لہجے میں کہا جائے تو طاقتور ہو جاتا ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button