کربلا میں یومِ ولادتِ امام حسین علیہ السلام کے موقع پر سالانہ خون عطیہ کیمپ

تیسری شعبان المعظّم، یومِ ولادتِ امام حسینؑ کے پُرمسرت موقع پر، شہرِ مقدس کربلا میں واقع بین الحرمین الشریفین کے علاقے میں شیعہ نوجوانوں کا ایک گروہ، دائرۂ صحتِ کربلا کے تعاون سے، سالانہ خون عطیہ کرنے کی مہم ’’قطرات لكنها حياة‘‘ (چند قطرے، مگر زندگی) کے عنوان سے شروع کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔
یہ انسانی خدمت پر مبنی اقدام امام حسین علیہ السلام کی اس عظیم قربانی اور ایثار کی اقدار سے متاثر ہو کر کیا جا رہا ہے، جنہوں نے کلمۂ حق کی سربلندی کے لئے اپنا پاکیزہ خون نچھاور کیا۔ یہ مہم عملی طور پر ایثار، قربانی اور سماجی یکجہتی کے پیغام کو معاشرے میں عام کرنے کی ایک کوشش ہے۔
مہم کے منتظمین نے "شیعہ خبر رساں ایجنسی” سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ سرگرمی سیدالشہداء امام حسین علیہ السلام کے راستے پر چلنے کا ایک سچا اظہار ہے اور اس کا مقصد رضاکارانہ خدمات کی ثقافت کو فروغ دینا اور انسانی ذمہ داری کے شعور کو مضبوط کرنا ہے، خصوصاً ایسی دینی مناسبتوں میں جو اعلیٰ معنوی اقدار کی حامل ہوتی ہیں۔
انہوں نے وضاحت کی کہ اس مہم کا ہدف زیادہ سے زیادہ خون کی بوتلیں جمع کرنا ہے تاکہ اسپتالوں میں زیرِ علاج مریضوں اور ضرورت مندوں کی مدد کی جا سکے، بالخصوص کینسر مراکز میں داخل مریضوں اور نازک حالت والے کیسز کے لئے۔
انہوں نے بتایا کہ خون عطیہ کرنے کا عمل تیسری اور چوتھی شعبان المعظّم تک جاری رہے گا۔
منتظمین نے مزید کہا کہ عطیہ کیا گیا تمام خون منظور شدہ طبی ضوابط کے مطابق بلڈ بینکس اور متعلقہ طبی مراکز کے حوالے کیا جائے گا، تاکہ مریضوں کی جانیں بچائی جا سکیں اور صحت کے اداروں کی بڑھتی ہوئی ضروریات پوری کی جا سکیں۔
مہم کے گذشتہ ادوار میں بڑی تعداد میں لوگوں نے خون عطیہ کیا، جس کے نتیجے میں اسپتالوں کے لئے خون کا مؤثر ذخیرہ فراہم ہوا اور متعلقہ صحت کے اداروں کے ساتھ بہتر تنظیم اور ہم آہنگی کے ذریعہ زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کیا گیا۔
آخر میں منتظمین نے اس بات پر زور دیا کہ: ’’آج ہم جو چند قطرے خون عطیہ کرتے ہیں، وہ امام حسین علیہ السلام کے نہج کا تسلسل ہیں؛ یہ قطرے ہزاروں مریضوں کے لئے امید اور زندگی کا چراغ بنیں گے، اور اہلِ بیت علیہم السلام کی قائم کردہ قربانی اور ایثار کی اقدار کا عملی مظہر ہوں گے۔‘‘




