
انسانی حقوق کے ادارے ‘روادری’ نے خبردار کیا ہے کہ طالبان کی عدالتوں کے نفاذی ضابطے نے مخالفین کو ‘باغی’ کا لیبل لگا کر قتل اور حقوقی محرومی کو قانونی حیثیت دے دی ہے اور مذہبی اقلیتوں کو منظم طریقے سے جبر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
یہ اقدام بین الاقوامی انسانی حقوق کے معیارات کی کھلی خلاف ورزی تصور کیا جاتا ہے۔
اس حوالے سے ایک رپورٹ پیش خدمت ہے :
انسانی حقوق کے ادارے ‘روادری’ نے طالبان کی عدالتوں کے نفاذی ضابطے کے مواد کے بارے میں ایک رپورٹ جاری کرتے ہوئے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے اور زور دیا ہے کہ یہ دستاویز افغانستان میں مذہبی امتیاز اور بنیادی آزادیوں کی سرکوبی کو ادارہ جاتی شکل دے رہی ہے۔
اس ضابطے میں سیاسی مخالفین، ناقدین، سول سماج کے کارکنوں اور انسانی حقوق کے محافظوں کو ‘باغی’ یا ‘ساعی بالفساد’ قرار دیا گیا ہے اور صراحت کی گئی ہے کہ ‘قتل کے بغیر اصلاح نہیں ہوتے۔’
یہ تعریف عملی طور پر طالبان کی عدالتوں کو وسیع اور خطرناک اختیارات دیتی ہے کہ وہ مخالف خیال رکھنے والوں کو منصفانہ مقدمے کے بغیر قتل کر سکیں۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق، روادری کا کہنا ہے کہ اس دستاویز کی ایک اور شق میں حنفی مذہب کے پیروکاروں کو مسلمان قرار دیا گیا ہے اور جو لوگ دوسرے مذاہب کی پیروی کرتے ہیں، انہیں ‘مبتدع’ یا بدعت گذار کا لیبل دیا گیا ہے۔
یہ اقدام مذہبی اقلیتوں کے خلاف منظم سرکوبی، قانونی تحفظ سے محرومی اور من مانے طریقے سے سزائیں دینے کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔
رائٹرز نے بھی واضح کیا ہے کہ اس ضابطے کا نفاذ قانون کے سامنے برابری اور مذہب و عقیدے کی آزادی کے اصول کی خلاف ورزی ہے اور مخالف خیالات رکھنے والوں کے جسمانی خاتمے اور مذہبی تشدد میں اضافے کا خطرہ بڑھاتا ہے۔
روادری نے زور دیا ہے کہ طالبان کا رویہ نہ صرف افغانستان کی بین الاقوامی انسانی حقوق کی ذمہ داریوں سے متصادم ہے، بلکہ مذہبی تقسیم کو مزید گہرا کر رہا ہے اور اقلیتوں اور سول سماج کے کارکنوں کی حفاظت اور زندگی کو خطرے میںڈال رہا ہے۔
انسانی حقوق کے ماہرین کا خیال ہے کہ اس رجحان کا جاری رہنا ملک میں تشدد اور عدم استحکام کی ایک نئی لہر پیدا کر سکتا ہے اور عالمی برادری کی توجہ کو افغانستان میں انسانی حقوق کی صورتحال کی طرف پہلے سے زیادہ مبذول کرا سکتا ہے۔




