افغانستانخبریں

سخت سردی اور عالمی امداد میں کمی؛ افغانستان میں بھوک اور غذائی قلت کا بحران مزید شدید

سردیوں کی آمد، بین الاقوامی امداد میں شدید کمی اور بڑی تعداد میں مہاجرین کی واپسی کے ساتھ ہی افغانستان ایک نئی لہر کی بھوک اور غذائی قلت کا سامنا کر رہا ہے۔
یہ بحران لاکھوں افراد خصوصاً بچوں کی جانوں کے لئے سنگین خطرہ بن چکا ہے اور فوری انسانی امداد کی ضرورت کو دوچند کر دیتا ہے۔
اس سلسلہ میں ہمارے ساتھی رپورٹر کی رپورٹ پر توجہ دیں۔

افغانستان ایسے وقت میں موسمِ سرما کا استقبال کر رہا ہے جب اس کی معاشی اور معاشیاتی بنیادی ڈھانچہ بری طرح کمزور ہو چکا ہے اور آبادی کا ایک بڑا حصہ اپنی ابتدائی غذائی ضروریات پوری کرنے سے بھی قاصر ہے۔
سردی، موسمی بے روزگاری اور مہاجرین کی واپسی سے آبادی میں اضافہ نے اُن خاندانوں پر اضافی دباؤ ڈال دیا ہے جو پہلے ہی غربت اور غذائی عدم تحفظ سے دوچار تھے۔
نتیجتاً بھوک ایک دائمی بحران سے نکل کر شدید اور ہمہ گیر مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔
اسی سلسلہ میں خبر رساں ادارہ رائٹرز نے افغانستان میں عالمی غذائی پروگرام (WFP) کے سربراہ جان آئیلیف کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ بین الاقوامی مالی امداد میں نمایاں کمی نے اس ادارے کی بڑھتی ہوئی ضروریات کے مطابق مدد فراہم کرنے کی صلاحیت کو سخت محدود کر دیا ہے۔
ان کے مطابق گذشتہ برس افغانستان میں غذائی قلت کی سب سے بڑی لہر ریکارڈ کی گئی تھی، تاہم رواں سال کی صورتحال اس سے بھی زیادہ خراب قرار دی جا رہی ہے۔
جان آئیلیف نے خبردار کیا کہ صرف اسی سال تقریباً 30 لاکھ افراد مزید بھوک کا شکار ہوں گے اور کم از کم دو لاکھ بچے شدید غذائی قلت اور موت کے خطرے سے دوچار ہوں گے۔
انہوں نے رائٹرز سے گفتگو میں مزید بتایا کہ سردیوں کے آغاز کے ساتھ افغانستان کے کئی علاقوں میں روزگار کے مواقع تقریباً ختم ہو جاتے ہیں۔
اسی دوران ایران اور پاکستان سے افغان مہاجرین کی بڑے پیمانے پر واپسی کے باعث ملک کی آبادی میں تقریباً دس فیصد اضافہ ہوا ہے۔
ان میں سے بہت سے افراد ہمسایہ ممالک میں کام کرتے تھے اور اپنی کمائی گھر بھیجتے تھے—وہ آمدنی عالمی غذائی پروگرام کے سربراہ کے بقول، بہت سے خاندانوں کی معیشت کے لئے “زندگی کی ڈور” تھی۔
اس مالی سلسلہ کے منقطع ہونے نے غریب گھرانوں کی معیشت کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔
رائٹرز کی رپورٹ میں واپس آنے والے ایک خاندان کے سربراہ کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ حالات اس قدر دشوار ہو چکے ہیں کہ اُن کے لئے موت بھی قابلِ قبول محسوس ہوتی ہے۔
یہ خاندان اب خیمے میں زندگی گزار رہا ہے اور ان کی روزمرہ خوراک صرف خشک روٹی اور چائے تک محدود ہے، ایک دردناک منظر ہے جو اس انسانی المیہ کی گہرائی کو نمایاں کرتا ہے۔
دوسری جانب اقوامِ متحدہ نے پیشن گوئی کی ہے کہ رواں سال افغانستان میں تقریباً 1 کروڑ 70 لاکھ افراد شدید بھوک کا سامنا کریں گے اور فوری انسانی امداد کے محتاج ہوں گے۔
اقوامِ متحدہ کے دفتر برائے رابطۂ امورِ انسانی (OCHA) نے اس بحران سے نمٹنے کے لئے 1 ارب 72 کروڑ ڈالر کے بجٹ کی اپیل بھی کی ہے۔
امدادی ادارے بارہا خبردار کر چکے ہیں کہ پانچ ملین سے زائد افغان مہاجرین کی واپسی اور عالمی حمایت میں کمی نے افغانستان کے انسانی بحران کو ایک بے مثال مرحلے تک پہنچا دیا ہے۔
اگر فوری اور پائیدار بین الاقوامی امداد میں اضافہ نہ ہوا تو یہ صورتحال اس ملک کی آئندہ نسلوں کے مستقبل کے لئے ناقابلِ تلافی نتائج مرتب کر سکتی ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button