خبریںیورپ

لندن کے میئر کے امیدوار کے مسلم خواتین کے لباس سے متعلق اشتعال انگیز بیانات اور دینی و سیاسی رہنماؤں کا شدید ردِعمل

برطانیہ کی ریفارمز پارٹی سے لندن کے میئر کے عہدے کی امیدوار لیلا کَننگھم کے حالیہ اشتعال انگیز بیانات، جن میں انہوں نے کہا کہ برقع پہننے والی مسلمان خواتین کو روکا جانا چاہیے اور ان کی تلاشی لی جانی چاہیے، نیز یہ کہ لندن کے بعض علاقے ’’مسلمانوں کے شہر‘‘ کی مانند ہو گئے ہیں، نے عوامی غم و غصے اور سیاسی و مذہبی رہنماؤں کے وسیع پیمانے پر احتجاج کو جنم دیا ہے۔

ان بیانات نے مختلف ادیان کے پیروکاروں کے درمیان امتیاز کو فروغ دینے اور سماجی کشیدگی میں اضافے کے خدشات کو بڑھا دیا ہے۔

روزنامہ گارڈین کے مطابق، لندن کے میئر صادق خان نے ان بیانات پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ اس نوع کے خیالات کی تشہیر شہر میں تفریق پیدا کرتی ہے اور لندن کی سب سے بڑی مثبت پہچان، یعنی ثقافتی تنوع، کو کمزور کرتی ہے، نیز سماجی سلامتی کو خطرے میں ڈالتی ہے۔

برطانیہ کے مسلم ویمن نیٹ ورک کے مطابق، شائستہ گوہر نے ان بیانات کو ’’مسلمانوں کے خلاف ایک غلط اور اشتعال انگیز پیغام‘‘ قرار دیا اور کہا کہ ایسے نظریات مسلم معاشرے کے خلاف بدسلوکی اور امتیازی رویّوں کو تقویت دیتے ہیں۔

اسی طرح گارڈین کے مطابق رکن پارلیمنٹ افضل خان نے بھی کہا کہ یہ بیانات ’’انتخابی مفادات کے تحت تیار کی گئی ایک دانستہ سازش‘‘ ہیں جن کا مقصد تفرقہ پیدا کرنا ہے، اور یہ مختلف سماجی گروہوں کے درمیان تعلقات کو متاثر کر سکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button