افغانستانخبریں

ہرات کی خواتین پر پابندیوں میں اضافہ؛ روزمرہ زندگی طالبان کے کنٹرول میں

افغانستان کے شہر ہرات میں حالیہ ہفتوں کے دوران خواتین کو طالبان کی جانب سے نقل و حمل اور حجاب کے حوالے سے سخت پابندیوں کا سامنا ہے۔

تین پہیہ گاڑیوں کی بندش، ٹیکسیوں کی اگلی نشست پر خواتین کے بیٹھنے پر پابندی اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر پولیس کی سخت نگرانی نے خواتین کی طبی سہولیات تک رسائی اور روزمرہ سرگرمیوں کو شدید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔

اخبار ہشت صبح کی رپورٹ کے مطابق، بہت سی خواتین گھنٹوں اسٹاپس پر انتظار کرتی رہیں لیکن ٹیکسی ڈرائیوروں نے انہیں سوار کرنے سے انکار کر دیا، جبکہ بعض مواقع پر انہیں دھمکیوں اور تشدد کا بھی سامنا کرنا پڑا۔

خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق، طالبان نے نقل و حمل کے نظام پر مکمل نگرانی قائم کر رکھی ہے اور خواتین کو طالبان کے مقرر کردہ لازمی حجاب پر عمل کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ ان قوانین کی خلاف ورزی کی صورت میں جسمانی تشدد اور اسلحے کے ذریعہ دھمکیوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔

یہ پابندیاں خواتین کے بغیر محرم سفر کرنے پر روک، غیر محرم مردوں سے علیحدگی اور نماز کے اوقات کے مطابق سفر کے اوقات کی نگرانی تک پھیلی ہوئی ہیں، جس کے نتیجے میں ہرات میں خواتین کی روزمرہ زندگی عملاً سخت کنٹرول اور شدید پابندیوں کی زد میں آ گئی ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button