خبریںشام

مشرقی حلب کے شہر دیر حافر پر قسد کے انخلا کے بعد کنٹرول؛ شامی جنگ میں نیا موڑ اور قومی یکجہتی کی کوشش

شامی فوج نے ہفتہ 17 جنوری 2026 کو اعلان کیا کہ اس نے مشرقی صوبہ حلب کے نواح میں واقع شہر دیر حافر پر قسد فورسز کے عقب نشینی کے بعد مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔

یہ پیش رفت حالیہ جھڑپوں، کرد فورسز کی اسٹریٹجک پسپائی اور اسی کے ساتھ ساتھ شامی کردوں کے ثقافتی اور لسانی حقوق کو مضبوط بنانے کے اعلان کے تناظر میں سامنے آئی ہے۔

اس سلسلہ میں ہمارے ساتھی رپورٹر نے ایک رپورٹ تیار کی ہے، جسے ہم ساتھ دیکھتے ہیں۔

شامی فوج نے ہفتہ کے روز اعلان کیا کہ اس نے مشرقی صوبہ حلب میں واقع شہر دیر حافر پر قسد فورسز کے انخلا کے بعد مکمل عسکری کنٹرول قائم کر لیا ہے۔

سرکاری میڈیا نے اس اقدام کو ’’قومی خودمختاری کی بحالی‘‘ قرار دیا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق، شامی فوجی دستے علی الصبح شہر کے مختلف مقامات پر تعینات ہو گئے ہیں اور بارودی سرنگوں اور جنگی باقیات کی صفائی کے لئے تیار ہیں۔

اس سے قبل، شامی ڈیموکریٹک فورسز (قسد) نے اعلان کیا تھا کہ کشیدگی کے پھیلاؤ کو روکنے اور بین الاقوامی فریقوں کی ثالثی کے تحت وہ اپنے ٹھکانے خالی کر کے دریائے فرات کے مشرقی کنارے کی جانب منتقل ہو جائیں گے۔

خبر رساں ادارہ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق، یہ پسپائی شامی فوج کے حملوں اور بین الاقوامی ثالثوں کے ساتھ دباؤ اور مذاکرات کے نتیجے میں عمل میں آئی۔

دیر حافر پر کنٹرول ہفتوں کی کشیدگی کے بعد حاصل ہوا ہے؛ یہ وہ علاقہ ہے جہاں شامی فوج اس سے قبل حلب کے نواح میں کرد فورسز کے ساتھ شدید جھڑپوں میں مصروف رہی، جس کے باعث ہزاروں شہری بے گھر ہو گئے۔

رائٹرز کے مطابق، حلب کے بعض علاقوں میں کرد فورسز کی مزاحمت ٹوٹنے کے بعد شامی فوج نے دیر حافر کی جانب پیش قدمی کی اور بالآخر شہر پر قبضہ کر لیا۔

فوجی پیش رفت کے ساتھ ساتھ، شامی عبوری صدر احمد الشرع نے ایک فرمان جاری کیا جس میں کردوں کی ثقافتی اور لسانی شناخت کو شامی قومی شناخت کا ’’لازم و ملزوم حصہ‘‘ قرار دیا گیا اور پہلی بار کردی زبان کو بطور قومی زبان تسلیم کرنے کا اعلان کیا گیا؛ یہ اقدام شامی سیاسی تاریخ میں غیر معمولی سمجھا جا رہا ہے۔

دیر حافر کے بعض باشندوں نے حکومتی فورسز کی آمد کا خیرمقدم کیا اور اسے ’’نیم فوجی گروہوں کے تسلط سے نجات‘‘ قرار دیا۔

تاہم شامی ڈیموکریٹک فورسز نے دعویٰ کیا ہے کہ سرکاری فورسز مکمل انخلا سے پہلے ہی شہر میں داخل ہو گئی تھیں، جسے انہوں نے ’’معاہدے کی خلاف ورزی‘‘ کہا ہے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ یہ عسکری اور سیاسی پیش رفت شامی مرکزی حکومت کی جانب سے ملک کے اہم علاقوں پر کنٹرول مضبوط بنانے اور برسوں کی خانہ جنگی کے نتیجے میں پیدا ہونے والے نسلی و سیاسی اختلافات کو کم کرنے کی وسیع تر کوششوں کا حصہ ہو سکتی ہے، اگرچہ قانونی اور ساختی چیلنجز بدستور نمایاں بتائے جا رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button