کافی میں موجود اجزا بلڈ شوگر سے متعلق اہم انزائم کو روک سکتے ہیں، نئی تحقیق

حالیہ لیبارٹری تحقیق میں عربیکا کافی میں موجود قدرتی اجزا کی نشاندہی کی گئی ہے جو α-گلوکوسیڈیز نامی انزائم کو روک سکتے ہیں۔ یہ انزائم کاربوہائیڈریٹ کی ہضم اور کھانے کے بعد خون میں شکر کی سطح بڑھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
سائنس ڈیلی کے مطابق، محققین نے بھنی ہوئی عربیکا کافی میں تین نئے اجزا دریافت کیے جنہوں نے لیب ٹیسٹ میں اس انزائم کو روکنے کی مضبوط صلاحیت کا مظاہرہ کیا۔ بعض صورتوں میں یہ اثر ذیابیطس کی دوا ایکاربوز سے بھی زیادہ طاقتور ثابت ہوا۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یہ نتائج ابتدائی ہیں اور صرف لیبارٹری میں دیکھے گئے ہیں، انسانوں پر نہیں۔ اگرچہ یہ دریافت کافی سے حاصل ہونے والے اجزا کی بلڈ شوگر کنٹرول میں صلاحیت کی نشاندہی کرتی ہے، لیکن ذیابیطس کے مریضوں کے لیے ان کی تاثیر اور حفاظت کی تصدیق کے لیے مزید کلینیکل مطالعے ضروری ہیں۔
یہ تحقیق فنکشنل فوڈ یا قدرتی اجزا کی ترقی کے لیے امید افزا راہ کھولتی ہے، تاہم سائنسدانوں نے زور دیا ہے کہ صرف کافی کا استعمال ذیابیطس کے تجویز کردہ علاج کا متبادل نہیں بن سکتا۔




