تاریخ اسلاممقالات و مضامین

26 رجب؛ یوم الحزن یوم وفات حضرت ابو طالب علیہ السلام

تاریخِ اسلام کے اوراق میں بعض شخصیات ایسی ہیں جن کا کردار مثل خورشید روشن ہے، مگر تعصب کے بادل ان کی روشنی کو چھپانے کی ناکام کوشش کرتے رہے ہیں۔ حضرت ابو طالب علیہ السلام ایسی ہی عظیم المرتبت ہستی ہیں، جنہوں نے اپنی پوری زندگی رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ کی کفالت، حفاظت، نصرت اور حمایت میں گزار دی، مگر خود کبھی شہرت یا صلہ کے طالب نہ بنے۔

حضرت ابو طالب علیہ السّلام رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ کے چچا ہی نہیں بلکہ آپ کے سب سے بڑے محافظ، مربی اور سہارا تھے۔ بچپن میں یتیم محمد صلی اللہ علیہ وآلہ کو اپنی آغوشِ شفقت میں لیا اور جوانی میں جب پورے قریش دشمن بن گئے، تو ابو طالب علیہ السلام دیوارِ فولاد بن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ کے سامنے کھڑے ہو گئے۔ شعبِ ابی طالب کی سختیاں، فاقے، سماجی مقاطعہ اور مسلسل خطرات—یہ سب کچھ انہوں نے صرف اس لئے برداشت کیا کہ حق کا چراغ بجھنے نہ پائے۔

حضرت ابو طالبؑ کی شخصیت کا سب سے عظیم پہلو ان کی خاموش قربانی ہے۔ انہوں نے نہ تلوار اٹھائی، نہ منبر پر خطبے دیے، مگر ان کا ایک ایک قدم، ایک ایک فیصلہ اسلام کی بقا کا ضامن بنا۔ ان کے اشعار آج بھی ان کے محکم و کامل ایمان کی گواہی دیتے ہیں، جن میں رسالتِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ پر یقین، خدا کی وحدانیت پر ایمان اور حق کی نصرت کا عزم صاف جھلکتا ہے۔

یومِ وفاتِ ابو طالب علیہ السلام درحقیقت اس ہستی کی یاد کا دن ہے جس کے سائے میں نبوت پروان چڑھی۔ یہی وہ دن ہے جس کے بعد رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ نے فرمایا کہ آج مجھ پر دو عظیم صدمے ٹوٹ پڑے—ایک حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا کی وفات اور دوسرا ابو طالب علیہ السلام کا بچھڑ جانا۔ یہ الفاظ خود اس بات کی روشن دلیل ہیں کہ ابو طالبؑ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ کے لئے کس قدر قیمتی تھے۔


حضرت ابو طالب علیہ السّلام نے اپنے عظیم کردار کے ذریعہ رہتی دنیا تک یہ سبق دیا کہ حق کی حمایت کے لئے نام و نمود شرط نہیں، اخلاص شرط ہے۔ اگر نیت پاک ہو تو خاموشی بھی تاریخ رقم کر دیتی ہے۔ آج کے اس پُرفتن دور میں ابو طالب علیہ السلام کا کردار ہمیں ثابت قدمی، وفاداری اور قربانی کا درس دیتا ہے۔
سلام ہو اس مومن کامل پر
سلام ہو اس محافظِ رسالت و کفیل نبوت پر
سلام ہو حضرت ابو طالب علیہ السلام پر

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button