خبریںشام

حلب میں جھڑپوں میں شدت کے بعد دریائے فرات کے مغربی علاقوں کو بند فوجی زون قرار دے دیا گیا

شامی فوج نے ایک بیان جاری کیا ہے جو مقامی میڈیا کو فراہم کیا گیا، جس میں اعلان کیا گیا ہے کہ دریائے فرات کے مغرب میں واقع علاقوں کو ’’بند فوجی علاقہ‘‘ قرار دیا گیا ہے، اور دہشت گرد گروہ وائی پی جی (YPG) سے وابستہ تمام مسلح عناصر کو فوری طور پر اس دریا کے مشرقی جانب پسپائی اختیار کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

خبر رساں ایجنسی اناتولی کے مطابق یہ فیصلہ حلب میں جھڑپوں میں شدت اور شہر کے خلاف ڈرون حملوں میں اضافہ کے بعد کیا گیا ہے۔

شامی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق، شامی فوج کا دعویٰ ہے کہ وائی پی جی کے عناصر، پی کے کے سے وابستہ قوتوں اور سابق اسد حکومت کے باقی ماندہ عناصر کے ساتھ مل کر، دریائے فرات کے مغربی علاقوں کو فوجی کارروائیوں کے اڈے کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔

نیٹ ورک الاخباریہ نے بھی اطلاع دی ہے کہ ام‌تینہ گاؤں میں ایک اسٹریٹجک پل کے دھماکے سے—جو حکومتی کنٹرول والے علاقوں اور وائی پی جی کے زیرِ قبضہ علاقوں کو جدا کرتا تھا—کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا ہے۔

شامی میڈیا میں شائع ہونے والے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، حالیہ گولہ باری کے نتیجہ میں کم از کم 24 افراد ہلاک، تقریباً 130 زخمی اور لگ بھگ 1 لاکھ 65 ہزار افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔

شامی فوج نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ان علاقوں کے قریب جانے سے گریز کریں۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button