
اطلاعات کے مطابق شامی ڈیموکریٹک فورسز نے گزشتہ روز شام کے شہر حلب کے شمالی مضافات میں واقع ایک اسٹریٹجک پل کو جان بوجھ کر دھماکے کے ذریعہ تباہ کر دیا۔
شیعہ خبر رساں ایجنسی نے اناطولی کے حوالے سے بتایا کہ یہ اقدام شامی حکومت کے حامیوں کی پیش قدمی روکنے اور ان کی رسد کی لائنیں منقطع کرنے کے مقصد سے کیا گیا ہے۔
مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ پل، جو فوجی سازوسامان اور حامیوں کی نقل و حرکت کے لئے ایک اہم راستہ تھا، اس کے دھماکے سے تباہ ہونے کے باعث علاقے میں فوجی نقل و حرکت اور سپلائی چین میں نمایاں خلل پیدا ہوا ہے۔
تاحال اس حملے میں جانی نقصان سے متعلق کوئی آزاد تصدیق شدہ رپورٹ سامنے نہیں آئی، تاہم شمالی حلب میں سیکیورٹی صورتِ حال بدستور نہایت سنگین بتائی جا رہی ہے۔
فوجی ماہرین کے مطابق پل کی تباہی کے نتیجے میں زمینی کارروائیاں سست پڑ گئی ہیں اور علاقہ میں لاجسٹک مشکلات میں اضافہ ہوا ہے۔
اس دھماکے کے بعد مقامی شہریوں کو مزید حملوں کے خدشے کے پیشِ نظر آمد و رفت کے لئے طویل متبادل راستے اختیار کرنے پڑ رہے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق شامی ڈیموکریٹک فورسز اب بھی پل کے اطراف اور اس تک جانے والے راستوں پر کنٹرول برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
تجزیہ کاروں نے خبردار کیا کہ اس پل کی تباہی شمالی حلب میں کشیدگی میں اضافے کا سبب بن سکتی ہے اور اس کے انسانی اور فوجی اثرات مزید سنگین ہو سکتے ہیں۔




